سابق چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کی خود نوشت پر تنازعہ، ہتک عزتی کا مقدمہ درج، سماعت 3 جون کو

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –11  MAY

نئی دہلی ،11مئی: سابق چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کے لیے بری خبر سامنے آرہی ہے۔ سماجی کارکن اور آسام واقع ایک این جی او کے عہدیدار ابھجیت شرما نے ان کے خلاف ہتک عزتی کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس کی خود نوشت میں این ا?ر سی کے حوالے سے کچھ غلط باتیں کہی گئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھجیت شرما نے کامروپ (میٹرو) ضلع اور گواہاٹی میں سول جج کورٹ میں گگوئی کے خلاف ایک کروڑ روپے پر مشتمل ہتک عزتی کا مقدمہ داخل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے سابق چیف جسٹس کی خود نوشت ’جسٹس فار دی جج‘ پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ این جی او ’آسام پبلک ورکس‘ کے سربراہ ابھجیت شرما آسام میں این آر سی سے متعلق مختلف معاملوں میں کھل کر اپنی رائے رکھتے رہے ہیں۔ انھوں نے پہلے آسام میں 1951 کے این ا?ر سی کو اَپڈیٹ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ یہ معاملہ کے زیر التوا رہنے کے دوران ہائی کورٹ کی نگرانی میں 2015 میں آسام میں این آر سی کا عمل شروع ہوا تھا۔بہرحال، ابھجیت شرما نے عدالت میں داخل اپنی عرضی میں بتایا کہ سبکدوشی کے بعد سابق سی جے آئی نے این آر سی کے کوآرڈنیٹر رہے پرتیک ہزیلا کو عہدہ سے ہٹانے اور انھیں مدھیہ پردیش میں منتقل کرنے کے سلسلے میں کچھ باتیں لکھی ہیں وہ غلط ہیں۔ ساتھ ہی یہ باتیں ہتک ا?میز فطرت کی بھی ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں آئندہ سماعت کے لیے 3 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔واضح رہے کہ رنجن گگوئی نے خود نوشت میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے رام جنم بھومی-بابری مسجد معاملے پر تاریخی فیصلہ سنائے جانے کے بعد ہوئی پارٹی کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ’’رام جنم بھومی-بابری مسجد پر 9 نومبر 2019 کو سنائے گئے تاریخی فیصلہ کے بعد میں اس بنچ کے دیگر ججوں کو عشائیہ کے لیے ہوٹل تاج مان سنگھ لے کر گیا تھا۔‘‘