ساحلی کرناٹک میں گرمی کی شدت اور پینے کے پانی کی قلت سے عوام کا حال بے حال

TAASIR NEWS NETWORK-  SYED M HASSAN 4 MAY

بنگلورو، 4 مئی:ساحلی کرناٹک کے شمالی کینرا، ضلع اڈپی، جنوبی کینرا چکمگلورو سمیت ریاست کے کئی مقامات پر موسم سرما کی بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت کے ساتھ پینے کے پانی کی قلت سے عوام کا حال بے حال ہوگیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع شمالی کینرا میں کاروار اور انکولہ شہر اور دیہاتوں کو پانی فراہم کرنے والی گنگاولی ندی کے علاوہ ہوناور اور کمٹہ کو پانی فراہم کرنے والی اگناشینی ندی میں پانی کا بہاو کم ہوگیا ہے۔ اسی طرح سرسی شہر کو پانی فراہم کرنے والی کینگے ندی میں پانی سوکھ گیا ہے۔ بھٹکل کے لئے پانی فراہم کرنے والے کڈوین کٹّا ڈیم میں پانی کی سطح بالکل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس طرح ضلع کے اہم ترین شہروں اور دیہاتوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ مانسون کی آمد کے لئے ابھی پورا ایک مہینہ باقی ہے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہی صورتحال برقرار رہی تو مئی کے آخری ہفتے تک حالات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال اس موسم میں شمالی کینرا کے 111 گاوں پانی کی قلت کا شکار ہوئے تھے اور وہاں ٹینکروں سے پانی سپلائی کرنے کی نوبت آئی تھی۔ ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس کے اندازے کے مطابق امسال 101 گاوں میں یہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔اڈپی ضلع سے ملی خبروں کے مطابق وہاں 46 گاوں میں پینے کے پانی کی قلت سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔ کاپو، برہماور، کارکلا، ہیبری، بیندور اور کنداپور کے دیہی علاقے پانی کی قلت کا شکار ہوئے ہیں۔ مختلف گرام پنچایتوں کی طرف سے ٹینکروں کے ذریعہ پانی کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ جبکہ جنوبی کینرا کے دیہی علاقوں میں دو دن میں ایک مرتبہ صرف آدھے گھنٹے کے لئے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف تومبے ڈیم میں پانی کی سطح بہت ہی کم ہوجانے کی وجہ سے ضلع انتظامیہ نے منگلورو شہر کے میونسپل کارپوریشن حدود میں ایک دن منگلورو ساوتھ کے لئے اور دوسرے دن سورتکل کے لئے پانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگلورو ساوتھ اور منگلورو نارتھ کے لئے متبادل دنوں میں پانی فراہم کیا جائے گا۔ تعمیراتی سرگرمیوں اور موٹر گاڑیاں دھونے کے مراکز کو اگلے فیصلے تک پانی سپلائی بند کردی جائے گی۔ اگر کوئی پانی ضائع کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو ان کے پانی کا کنکشن منقطع کر دیا جائے گا۔ چکمگلورو ضلع کی صورتحال کے مطابق اس وقت وہاں 86 گرام پنچایت ایسے ہیں جہاں پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ بعض گرام پنچایتوں میں ہفتہ میں دو یا تین مرتبہ ٹینکروں کے ذریعے پانی سپلائی کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔