شرپسندوں اورریاست دشمن عناصرکومثالی سزادی جائے گی: وزیراعظم کا انتباہ

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –11  MAY

اسلام آباد ،11مئی:وزیر اعظم شہبازشریف نے خبردار کیا ہے کہ ’’دہشت گردوں اور ریاست کے دشمن عناصرکو فوری طورپراپنی ریاست مخالف سرگرمیوں سے بازآجانا چاہیے‘‘۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’شرپسندوں‘‘سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور انھیں مثالی سزا دی جائے گی۔وزیراعظم بدھ کی شب قوم سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ریاست اور نظریہ پاکستان کا تحفظ ہمارے لیے اپنی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے اور ہم کسی کوبھی اس کے خلاف سازش کرنے کی اجازت دیں گے اورنہ ان کے مذموم عزائم کو پورا ہونے دیں گے۔انھوں نے کہا کہ کسی سیاسی قیادت کا اصل کردار یہ ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو قانونی لکیروں کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ سیاسی قیادت کا اصل کردار اور ذمیداری یہ ہے کہ وہ کسی بھی گرفتاری کے دوران میں اپنے کارکنوں کو قانونی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے ہم کسی بھی گرفتاری پر خوشی کا اظہار نہیں کرسکتے۔ یہ واقعی زندگی کا ایک تلخ لمحہ ہے جس سے ہم گزرے ہیں۔تاہم انھوں نے الزام عایدکیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے اپنے چیئرمین اور سابق وزیراعظم کی گرفتاری کے بعد اپنے اقدامات کے ذریعے ریاست کے خلاف دشمنی کے ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔شہباز شریف نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں تمام شواہد موجود ہیں۔قومی احتساب بیورو(نیب) ان کے خلاف شواہد کی بنیاد پ تحقیقات کررہا ہے اور سوال کیا کہ پی ٹی آئی کی کابینہ کو اس معاملے میں “مکمل طور پر اندھیرے میں” کیسے رکھا گیا۔انھوں نے کہا کہ جب معاملہ قومی خزانے کے 60 ارب روپے کا تھا تو یہ کابینہ کا فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے؟انھوں نے اپنی تقریرمیں نیب کے قانون میں تبدیلی کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ پرانے احتساب قانون کے تحت کسی بھی شخص کو 90 دن کے لیے اٹھایا جا سکتا تھا اور ضمانت ملنا ناممکن تھا۔لیکن ہم نے اس قانون میں ترمیم کی اور ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کرکے 15 دن کردی۔شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا دہشت گردی اور ملک دشمنی ہے۔پی ٹی آئی کے دورحکومت میں نہ صرف سیاسی مخالفین اوران کے اہل خانہ بلکہ رشتہ داروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔پی ٹی آئی کے دور میں وفاقی وزراء سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی تفصیل نشر کرتے تھے اور سابق وزیراعظم عمران خان گرفتاریوں کی پیشین گوئی کرتے تھے۔وزیراعظم نے اپنے خطاب کیآغاز میں کہاکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ’’بہت تلخ‘‘ رہی ہے اور سیاست میں کبھی انتقامی کارروائیوں کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں‘‘۔