TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –7 MAY
نئی دہلی، 07مئی :ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کی گرفتاری کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر پہلوانوں کی ہڑتال آج 15ویں دن بھی جاری ہے۔ آج جنتر منتر پر ایک مہاپنچایت ہو رہی ہے، جس میں ملک بھرکی کھاپ پہنچ رہی ہیں۔کسان جنتر منتر پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ ایک طویل ہڑتال کی تیاری کر رہے ہیں۔ اتوار کی صبح ٹکری سرحد پر کسان رہنماؤں کے ساتھ خواتین کوپولیس نے روکا۔ بعد میں پولیس نے انہیں اندر جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد کسان بسوں اور چھوٹی گاڑیوں سے جنتر منتر پہنچے۔کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے وضاحت کی ہے کہ ہم پرامن طریقے سے مہاپنچائیت کر رہے ہیں۔ اگر پولس کسانوں کو حراست میں لے کر تھانے لے جاتی ہے تو اسی تھانے میں مہاپنچایت منعقد کی جائے گی۔اس دوران ڈبلیو ایف آئی کے صدر برج بھوشن نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہکھاپ کے میرے چچا اورتاؤ، میں آپ کو دہلی آنے سے نہیں روک رہا ہوں، لیکن جس دن دہلی پولیس کی تفتیش ختم ہو جائے گی اور اگر میں قصوروار پایا گیا تو میں خود آپ سب کے درمیان آؤں گا۔آپ سب جوتے مارکر مارکر میرا قتل کردینا۔آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے گاؤں کا کوئی بچہ، عورت، لڑکی کشتی کھیلتی ہو تو ان سے 1 منٹ کے لیے اکیلے میں پوچھناکہ برج بھوشن پر لگائے گئے الزامات صحیحہیں؟ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بچے غلطیاں کرتے ہیں، آپ نہیں کرتے۔مہم (روہتک) چوبیس سروکھپ پنچایت نے ہفتہ کو ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ بلائی۔ اس میں 65 کھاپ ممبران نے حصہ لیا۔ یہیں پر جنتر منتر جانے کا فیصلہ ہوا۔ تحریک کی منصوبہ بندی کے لیے 31 ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔سروکھپ پنچایت کے چیف سکریٹری رامفل راٹھی نے کہا کہ کھاپس کے ساتھ ساتھ کسان اور سماجی تنظیمیں بھی خواتین پہلوانوں کی حمایت میں ہیں۔ برج بھوشن شرن سنگھ پر سنگین الزامات ہیں، اس کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ حکومت برج بھوشن کو فوری گرفتار کرے، ورنہ کھاپیں سخت قدم اٹھائیں گی۔8 مئی کو ٹیم فورس کے ساتھ دہلی کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ متحدہ کسان مورچہ (غیر سیاسی) نے ملک بھر کے کسانوں کے ساتھ آن لائن میٹنگ کرنے اور دہلی کا محاصرہ کرنے کی حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسان لیڈر ابھیمنیو کوہار نے بتایا کہ ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش کے کسان دہلی جائیں گے۔ریسلر بجرنگ پونیا نے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے کی حمایت کے لیے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا- کھیل کے میدان کو فتح کیا، اب جنتر منتر کو فتح کرنے کے بعد جائیں گے۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا- اگر آپ زندہ ہیں تو زندہ دکھنا ضروری ہے۔آپ کو بتادیں کہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف گزشتہ ماہ 23 اپریل سے ریسلرز ہڑتال پر ہیں۔ پہلوانوں نے برج بھوشن پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ دہلی پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔اس سے قبل 18 جنوری کو پہلوانوں نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ تاہم وزارت کھیل کی مداخلت کے بعد پہلوانوں نے اپنی ہڑتال ختم کردی تھی۔ اس کے بعد وزارت کھیل نے پہلوانوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ پہلوانوں نے اب کمیٹی پر ہی سوال اٹھا دیے ہیں۔آج دہلی کے جنتر منتر پر پہلوانوں کی حمایت میں کھاپس کی مہا پنچایت ہو رہی ہے۔ اس میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کی گرفتاری کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ادھر برج بھوشن نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بجرنگ پونیا اور ونیش پھوگٹ کے درمیان کھیل ختم ہو گیا ہے۔ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ونیش پھوگٹ، بجرنگ پونیا اور ساکشی ملک کی قیادت میں دہلی کے جنتر منتر پر پہلوانوں کی ہڑتال 14ویں دن بھی جاری ہے۔ پہلوانوں کی شکایت پر دہلی کے کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن میں برج بھوشن کے خلاف 10 دن پہلے جنسی ہراسانی اور پوسکو ایکٹ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔