TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –25 MAY
سرینگر، 25 مئی:سرینگر-لیہہ شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر، ایک دو لین والا اسٹیل آرچ ٹرس پل جو وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع کے وائل علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلا پل ہوگا، سرکاری طور پر بنایا گیا ہے، کا آج باضابطہ طور پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے افتتاح کرکے عوام کے نام وقف کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گاندربل ضلع میں سری نگر-لیہہ ہائی وے کے ساتھ نالہ سندھ پر آنے والے اپنی نوعیت کے اہم اور منفرد پل کا افتتاح کیا جسے وائل پل بھی کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر چیف سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا، ڈی ڈی سی چیئرپرسن گاندربل نزہت اشفاق، پرنسپل سکریٹری آر اینڈ بی شیلندر کمار کے علاوہ سول اور پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ حکام نے بتایا کہ دو لین پل کو 23.79 روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پل کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا ہوگا۔ اور پل ایک آرچ قسم کا سٹیل پل ہے جس کا فاؤنڈیشن 110 میٹر اور چوڑائی 10.50 میٹر ہے جبکہ اپروچ سڑکوں کی لمبائی 330 میٹر ہے۔گاندربل کے لوگوں کے لیے ایک اہم پل ہے ،کیونکہ پرانے پل کی وجہ سے گاڑیوں کو ایک ایک کرکے پل سے گزرنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے زبردست ٹریف جام سے لوگوں کو گزرنا پڑتا تھا۔خاص کر گرمی کے مہینوں میں جب لداخ شاہراہ کھلی ہوتی ہے اور سیاحوں کے علاوہ یاترا کیلئے لوگ آتے ہیں۔ جبکہ سینکڑوں مرتبہ اس پرانے پل پر ایمبولینس بھی پھنس کے رہ گئی تھیں۔ یہ پل کشمیر اور لداخ کو ملانے کی اہمیت کے پیش نظر بہت اہم ہے، اس کے علاوہ سیاح اور یاتری سونمرگ جانے اور سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔واضح رہے جو اس جگہ یعنی نالہ سندھ پر جو پرانا پل تھا، وہ سال 1992 میں سیلاب کی زد میں آنے سے بہہ گیا تھا، اور اس جگہ پر بیکن کے عملے نے عارضی طور پر یکطرفہ لوہے کا پل بنایا تھا۔جس کی وجہ سے کنگن تحصیل کے لوگ سال 1992 سے لگاتار مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہو رہے تھے۔