TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –8 MAY
نئی دہلی،08مئی: سپریم کورٹ نے منی پور تشدد کے متاثرین کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ عدالت نے مرکز اور منی پور حکومت سے کہا ہے کہ وہ تشدد کے متاثرین کو تحفظ فراہم کریں۔ ساتھ ہی ان کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو کہا گیا ہے۔ عدالت کا یہ حکم ان دلائل کا نوٹس لینے کے بعد آیا ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں منی پور میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔تشدد کے بعد کی صورتحال کو انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ریلیف کیمپوں میں مناسب انتظامات کئے جائیں، وہاں پناہ لینے والے لوگوں کو خوراک، راشن اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
مرکز اور ریاست کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے تشدد سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بنچ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فوج اور آسام رائفلز کے دستوں کے علاوہ سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی 52 کمپنیاں تشدد سے متاثرہ علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔بنچ نے سماعت کے دوران ہدایت دی کہ بے گھر لوگوں کی بحالی کے لیے تمام ضروری کوششیں کی جائیں۔بنچ جس میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے بی پارڈی والا بھی شامل ہیں نے عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا۔منی پور کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے قبائلیوں اور امپھال وادی میں رہنے والی اکثریتی برادری کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تشدد کی وجہ سے 23,000 لوگوں نے فوجی چھاؤنیوں اور ریلیف کیمپوں میں پناہ لی ہے۔سپریم کورٹ نے منی پور تشدد سے متعلق عرضیوں کی سماعت 17 مئی کے لیے مقرر کی اور مرکز اور ریاست کو اس وقت تک تازہ ترین اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔