TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –7 MAY
امپھال، 07مئی (:منی پور میں حالات بدستور کشیدہ ہیں، ریاستی انتظامیہ نے شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیاہے۔ مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں بٹالین کاایک کمانڈوشہید ہوگیاہے۔رپورٹ کے مطابق کشیدگی والے علاقوں سے 9 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ریاست میں اب تک 100 سے زائد افراد مارے جا چکے، جبکہ گھروں میں آگ لگانے کے واقعات میں متعدد افراد کے جُھلس کر مرنے کی اطلاعات ہیں۔کشیدگی والے علاقوں میں کرفیو نافذ ہے، ٹرین سروس بھی بند کردی گئی ہے جبکہ ریاست بھر میں پیر تک انٹرنیٹ سروسز معطل رہے گی۔حالات کنٹرول کرنے کیلئے 10 ہزار سے زائد فوجی اور پیراملٹری ریاست میں موجود ہے، حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کے مزید دستے بھیجے گئیہیں۔5 مئی کو منی پور کے چرچند پور میں سی آر پی ایف کے کوبرا کمانڈو چونکھولن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیاتھا۔ وہ چھٹی پر اپنے گاؤں آیا ہوا تھا۔ اسی دن امپھال میں ڈیوٹی پر مامور ٹیکس اسسٹنٹ لیٹمنتھنگ مارا گیا۔ امپھال وادی کے علاقے میں میتی کمیونٹی کا غلبہ ہے۔ یہ زیادہ تر ہندو ہیں۔ منی پور کی کل آبادی میں ان کا حصہ تقریباً 53فیصد ہے۔ منی پور کے کل 60 ایم ایل ایز میں سے 40 ایم ایل اے میتی کمیونٹی سے ہیں۔پہاڑی علاقوں میں 33 تسلیم شدہ قبائل ہیں جن میں بنیادی طور پر ناگا اور کوکی قبائل ہیں۔ یہ دونوں قبائل زیادہ تر عیسائی ہیں۔ منی پور میں کل 60 ایم ایل اے میں سے 20 ایم ایل اے اسی قبائل سے ہیں۔ منی پور میں تقریباً 8فیصد مسلمان اور تقریباً 8فیصد سنماہی کمیونٹی ہیں۔وادی اور پہاڑی کی اس تقسیم کی وجہ سے منی پور میں کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 371C کے تحت منی پور کے پہاڑی قبائل کو خصوصی آئینی مراعات حاصل ہیں، جو میتی برادری کو نہیں ملی تھیں۔لینڈ ریفارم ایکٹ کی وجہ سے، میتی کمیونٹی زمین خرید کر پہاڑی علاقوں میں آباد نہیں ہو سکتی۔ جب کہ قبائلیوں پر پہاڑی علاقوں سے وادی میں آکر آباد ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے دونوں برادریوں کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔منی پور کے چرچند پور میں 3 مئی کو لگی تشدد کی آگ پچھلے کئی مہینوں سے بھڑک رہی تھی۔منی پور کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی برادری کے لوگ محفوظ جنگلات اور جنگلاتی پناہ گاہوں پر قبضہ کر کے افیون کی کاشت کر رہے ہیں۔ ان تجاوزات کو ہٹانے کے لیے، حکومت منی پور فاریسٹ رول 2021 کے تحت جنگل کی زمین پر کسی بھی طرح کی تجاوزات کو ہٹانے کی مہم چلا رہی ہے۔قبائلیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی آبائی زمین ہے۔ انہوں نے تجاوزات نہیں کی ہیں بلکہ برسوں سے وہاں رہ رہے ہیں۔ قبائلیوں نے حکومت کی اس مہم کو ان کی آبائی زمین سے ہٹانے کے طور پر پیش کیا۔ جس کی وجہ سے ناراضگی بڑھ گئی ہے۔احتجاج کرنے پر ریاستی حکومت نے ان علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے اور مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے۔ جس کے نتیجے میں کوکی برادری کی سب سے بڑی قبائلی تنظیم کوکی انپی نے حکومت کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کر دیاہے۔ اس ریلی کے دوران کانگ پوکپی نامی جگہ پر پولیس اور ریلی میں شامل بھیڑ کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ اس میں پانچ مظاہرین سمیت پانچ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔اسی دوران ایک اور بڑا واقعہ پیش آیا۔ درحقیقت کوکی قبیلے کی کئی تنظیمیں 2005 تک فوجی بغاوت میں ملوث رہی ہیں۔ منموہن سنگھ کی حکومت کے وقت، 2008 میں، مرکزی حکومت نے تقریباً تمام کوکی باغی تنظیموں کے ساتھ ان کے خلاف فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے آپریشن کی معطلی (ایس اوسی) معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس کا مقصد سیاسی بات چیت کو فروغ دینا تھا۔ پھر اس معاہدے کی مدت میں وقتاً فوقتاً توسیع کی گئی۔ لیکن اس سال 10 مارچ کو منی پور حکومت نے کوکی برادری کی دو تنظیموں کے معاہدے سے پیچھے ہٹ گئی۔ یہ تنظیمیں ہیں جومی ریوولیوشنری آرمی یعنی زیڈ آر اے اور کوکی نیشنل آرمی یعنی کے این اے۔متیٹرائب یونین گزشتہ ایک دہائی سے میتی کو قبائلی درجہ دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے منی پور ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اس کی سماعت کرتے ہوئے منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا تھا کہ وہ 19 اپریل کو قبائلی امور کی 10 سال پرانی مرکزی وزارت کی سفارشات پیش کرے۔ اس سفارش میں میتی برادری کو قبیلے کا درجہ دینے کا کہا گیا ہے۔