TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –9 MAY
ہگلی9/مئی (محمد شبیب عالم) کیڑے مارنے کی دوا میں ہی کیڑے لگ گئے ! یہ بات کچھ عجیب سی لگ رہی ہے؟ مگر ہگلی میں کچھ ایساہی ہوا ہے۔ اب تک آپ لوگوں نے سنا ہوگاکہ چور یا سائیبر کرائم کرنے والے ATM سے لوگوں کے رقم اڑا لیتے ہیں۔ لیکن کبھی شاید آپکے ذہن میں یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ وہ بینک کی گاڑی میں اے ٹی ایم میں رقم ڈالنے کےلئے پوری سیکوریٹی کےساتھ جو آتے ہیں وہی لوگ اس رقم کو لوٹ لینگے؟ ہے نہ حیرانی کی بات؟ لیکن ایسا کرکے دیکھا دیئے ہیں ہگلی ضلع کے تین لوگ سنتو دت، سنجیت سرکار اور سنجیت پاترا ان تینوں کو پولیس گرفتار کی ہے، لیکن اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے اسکی تلاش جاری ہے۔ یہ کہنا ہے چندن نگر پولیس کمشنر امیت پی جولگی کا۔ گزشتہ کل چنسورہ میں صحافیوں کےساتھ ایک پریس میٹ کرکے ATM لوٹ کے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی ایم مشینوں میں رقم بھرنے والے اے ٹی ایم مشینوں میں رقم بھرنے کے بجائے اپنے ہی جھولی میں بھر لیتے تھے ۔ ہگلی ضلع کے شیرامپور میں یہ واردات ہوئی ۔ اس معاملے میں گزشتہ پانچ مئی کو شیرامپور تھانے میں اس قسم کی شکایت درج کی گئی اور بتایا گیا کہ کچھ دنوں سے مختلف ATM میں جتنی رقم بھرنے کی بات ہے اتنی رقم ان مشینوں میں نہیں بھری جارہی ہے ۔ ایجینسی کے طور پر بینک سے روپئے اے ٹی ایم میں بھرنے کےلئے لے جاتا تھا شیرامپور کا ایک شخص ۔ لیکن گزشتہ دو مئی کو شک و شبہ ہونے لگا تھانے میں شکایت کی گئی شکایت ملتے ہی پولیس تلاشی مہم میں لگ گئی اور شیرامپور ، رشڑا کے علاقے سے تینوں لوگوں کو گرفتار کی انکا نام ہے سانتو دت ، سنجیت سرکار اور سنجیت پاترا ان تینوں کے پاس سے نقدی 60 لاکھ روپئے برآمد ہوئے ۔ پولیس کمشنر نے اور بتایا کہ ڈیڑھ کروڑ روپئے کی لوٹ کی شکایت درج کی گئی ہے ۔ انکی گرفتاری کےبعد عدالت میں پیش کرکے دس دنوں کی پولیس حراست منظر ہوا ہے ۔ ان تینوں سے تفتیش جاری ہے ۔ لیکن اس لوٹ کے معاملے میں اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے اسکا پتا لگانے میں لگی ہے چندن نگر پولیس کمشنریٹ کی پولیس۔