TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –19 MAY
آج کانگریس کے لئے اہم دن ہے۔ پچھلے 9 سالوں سے کانگریس کو جس طرح کی جیت کی ضرورت تھی، اس جیت کا نتیجہ آج سامنے آنے والا ہے۔ آج کانگریس کی حکومت سازی کا دن ہے۔ کرناٹک کے لوگوں نے جس طرح کانگریس سے اپنی محبت کی کا اظہار کیا ہے، آج اس کا اصلی جشن منایا جانے والا ہے۔آج کا دن ایک طرح سے کانگریس کے لیے زندگی کی لکیر ہے، جو اب تک بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں 1985 سے حکومت بدلنے کی روایت رہی ہے۔ یہاں کے لوگوں نے بھی تب سے اس روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اگرچہ 1999 میں کانگریس کی حکومت تھی اور پھر 2004 میں، ایک معلق مینڈیٹ اور بی جے پی واحد سب سے بڑی پارٹی بننے کے باوجود، کانگریس جے ڈی ایس کے ساتھ حکومت بنا کر اقتدار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس بار بھی کرناٹک کے عوام نے تبدیلی کی روایت کے مطابق مینڈیٹ دیا ہے۔بی جے پی کو شکست ملی ہے اور کانگریس کو فتح۔ کرناٹک میں پہلی بار اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل کرنے کے بی جے پی کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ بھلے ہی بی جے پی کرناٹک میں 2007 سے برسراقتدار آ رہی تھی، لیکن یہاں کے لوگوں نے اسے کبھی مکمل اکثریت نہیں دی۔ اسے 2008 میں سب سے زیادہ 110 سیٹیں ملی تھیں۔
سیاست کے ماہرین کا ماننا ہےکہ ریاست کے عوام نے اس بار کانگریس کو جو مینڈٹ دیا ہےوہ ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ کانگریس کے لیے نہ صرف کرناٹک کا نتیجہ اہم ہے، بلکہ 2024 میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے اپوزیشن اتحاد قائم کرنے کی جاری مہم کے نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔ اس کے برعکس یہ نتائج بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو پچھلے 9 سالوں سے الیکشن کے بعد الیکشن جیتتی آ رہی ہے۔
اس بار کے انتخابات کو علاقائیت کے لحاظ سے بھی کانگریس آگے رہی ہے۔ وسیع طور پر کرناٹک کو 6 خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔حیدرآباد کرناٹک، ممبئی کرناٹک، ساحلی کرناٹک، وسطی کرناٹک، گریٹر بنگلورو اور پرانا میسور علاقہ۔ پہلے ان میں سے وسطی، ساحلی اور ممبئی کرناٹک کے علاقے بی جے پی کے گڑھ سمجھے جاتے تھے، وہیں گریٹر بنگلورو میں بھی بی جے پی کی بالادستی کی بات کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ پرانے میسور علاقے میں جے ڈی ایس کا اثر تھا۔ لیکن اس بار کانگریس نے ان تمام تانے بانے کو توڑ دیا ہے۔ اس بار وسطی کرناٹک، حیدرآباد کرناٹک، ممبئی کرناٹک اور پرانے میسور کے علاقے میں کانگریس کا غلبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ وہیں گریٹر بنگلورو میں بی جے پی کانگریس سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، لیکن کانگریس نے بی جے پی کو پوری طرح غلبہ نہیں پانے دیا۔ ساحلی کرناٹک واحد خطہ تھا جہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس بی جے پی سے پیچھے رہی ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بار دیہی علاقوں کی 151 سیٹوں میں سے کانگریس کو 97 سیٹیں اور بی جے پی کو 34 اور جے ڈی ایس کو 17 سیٹیں ملی ہیں۔ دوسری طرف نیم شہری علاقوں میں کانگریس 26 میں سے 15 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی اور بی جے پی نے 8 پر کامیابی حاصل کی۔ شہری علاقوں میں کانگریس کو 47 میں سے 23 اور بی جے پی کو 24 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔
اس بار کی سب سے خاص بات یہ رہی ہے کہ لنگایت برادری کی اکثریت والی 69 سیٹوں میں سے 44 سیٹیں کانگریس اور 21 سیٹیں بی جے پی کے حصے میں آئی ہیں، جب کہ ووکلیگا برادری کی اکثریت والی 51 سیٹوں میں کانگریس نے 27 اور جے ڈی ایس نے 12 سیٹیں جیتی ہیں جبکہ بی جے پی نے 10 سیٹیں جیتی ہیں۔ کانگریس نے درج فہرست قبائل کے لیے ریزرو 15 میں سے 14 سیٹیں جیتی ہیں اور ایک سیٹ جے ڈی ایس کے کھاتے میں گئی۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے درج فہرست ذاتوں کے لیے ریزرو 36 میں سے 20 سے زیادہ سیٹیں جیت لی ہیں۔ زیادہ تر مسلم اکثریتی نشستیں بھی کانگریس کے کھاتے میں گئیں۔
اس بار نتائج سے یہ بھی واضح ہے کہ شمالی ہند کی طرح کرناٹک میں فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹوں کا پولرائزیشن نہیں ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے کرناٹک انتخابات قریب آئے، ریاست سے باہر کے بی جے پی لیڈروں نے بجرنگ بلی، بجرنگ دل اور فلم’’دی کیرالہ اسٹوری‘‘ کو مقامی مسائل سے بڑا ایشو بنانے کی کوشش کی۔ اس کے بر خلاف کانگریس کے مرکزی قائدین نے مقامی مسائل پر زیادہ توجہ دی۔ انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے چند دن پہلے وہاں کی بسواراج بومائی حکومت نے مسلمانوں کو دیے گئے 4فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کا خمیازہ بھی بی جے پی کو اٹھانا پڑاہے۔
واضح ہو کہ اس سال راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم میں انتخابات ہونے ہیں۔ ان میں سے اس وقت راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس برسراقتدار ہے اور مدھیہ پردیش بی جے پی کے ساتھ ہے۔ تاہم، کرناٹک میں جیت سےکانگریس کے ان تینوں ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کے امکانات کو سب سے بڑا خطرہ اس کے اپنے لیڈروں سے ہے۔ راجستھان میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ ہمیشہ تلوار لے کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہیں چھتیس گڑھ میں بھی سی ایم بھوپیش بگھیل اور ٹی ایس سنگھ دیو کے درمیان کشیدگی اب عروج پر پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت بھی اسے توڑ نہیں پا رہی ہے۔ تاہم، اب کرناٹک میں جیت کے ساتھ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو یہ پیغام دینے کا موقع ملا ہے کہ اگر انتخابات جیتنا ہیں تو اندرونی لڑائی کو پس پشت ڈالنا ہوگا، جیسا کہ سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار نے اس بارکرناٹک میں کیا ہے۔اور سیاسی مبصرین کی مانیں تو یہی وہ فارمولہ ہے ، جس کے مطابق اپنی انتخابی حکمت عملی مرتب کرکے کانگریس ملک کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہے۔
********