کوئی فرد اپنی مرضی سے جنس تبدیل نہیں کر سکتا: وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –19  MAY

اسلام آباد،19مئی : پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں فیصلہ سناتے ہوئے ایکٹ میں شامل کئی دفعات کو خلافِ شریعت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے جنس تبدیل نہیں کر سکتا۔ جنس وہی ہو سکتی ہے جو پیدائش کے وقت تھی۔جنس کا تعین غالب جسمانی اثرات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے جمعے کو خواجہ سراو?ں کے حقوق سے متعلق ٹرانسجینڈر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔عدالت نے کہا کہ جنس کا تعین انسان کے محسوسات کی وجہ سے نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرانسجینڈز کی جنس کا تعین غالب جسمانی اثرات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جس پر مرد کے اثرات غالب ہیں وہ مرد خواجہ سرا تصور ہو گا۔اور زنانہ اثرات غالب ہونے کی صورت میں عورت۔شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کے سیکشن دو ایف، سیکشن تین اور سات کو خلاف شریعت قرار دیا ہے۔عدالت کے فیصلے کے مطابق ٹرانسجینڈر ایکٹ کے سیکشن سات کے تحت مرضی سے جنس کا تعین کر کے کوئی بھی وراثت میں مرضی کا حصہ لے سکتا تھا لیکن وراثت میں حصہ جنس کے مطابق ہی مل سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ مرد یا عورت خود کو اپنی بائیولاجیکل جنس سے ہٹ کر خواجہ سرا کہیں تو یہ غیر شرعی ہو گا۔وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کے تحت بننے والے رولز بھی غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر شرعی قرار دی گئی دفعات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خواجہ سرا تمام بنیادی حقوق کے مستحق ہیں جو آئین میں درج ہیں۔ اسلام نے بھی خواجہ سراو?ں کو تمام بنیادی حقوق فراہم کیے ہیں۔ 2018 میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ‘ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ’ میں ٹرانسجینڈر افراد کی تعریف متعین کرنے اور انہیں شناختی دستاویزات کے اجرا کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا تھا۔لیکن اس بل بھی شامل ایک شق کی بنیاد پر اسے متنازع بنا دیا گیا تھا۔