TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -17 JUNE
احمدآباد، 17جون:گجرات کے جوناگڑھ میں ایک غیر قانونی درگاہ کو مسمار کرنے کے نوٹس پر جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت چار پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا اور جمعہ کی شام کم از کم 200-300 لوگ درگاہ کے ارد گرد جمع ہوئے، پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، ایک پولیس چوکی میں توڑ پھوڑ کی، اور پولیس کی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ہنگامہ اس وقت ہوا جب جوناگڑھ میونسپل کارپوریشن کے اہلکار مجوادی گیٹ کے سامنے نوٹس کو درگاہ کے باہر لگانے پہنچے۔ پولیس نے تشدد کے سلسلے میں 174 افراد کو حراست میں لیا ہے۔واقعے کی ویڈیو میں مذہبی ڈھانچے کے ارد گرد 200-300 افراد کو انہدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ انہیں چیختے ہوئے اور پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کرتے سنا گیاہے۔جب ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ شروع کیا تو پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشتعل ہجوم پر آنسو گیس کے گولے داغے۔ جوناگڑھ کے ایس پی روی تیجانے بتایاکہ جونا گڑھ میونسپل کارپوریشن نے مجیواڑی گیٹ کے قریب ایک مسجد کو 5 دن کے اندر دستاویزات پیش کرنے کا نوٹس دیا تھا۔ کل وہاں 500-600 کے قریب لوگ جمع ہوئے تھے۔ پولس انہیںمنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ رات 10.15 بجے کے قریب پتھراؤ کیا گیا۔پولیس کی جانب سے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا گیا، اس واقعے میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے، 174 افراد کو حراست میں لے لیا گیا، پتھراؤ سے ایک عام شہری کی موت واقع ہوئی ہے ۔ مزید تفتیش جاری ہے۔حکام نے ثبوت پیش کرنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دی ہے کہ درگاہ قانونی طریقے سے بنائی گئی یا نہیں۔ اگر نہیں بنائی گئی ہے تو اسے گرا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسماری ہوئی اور یہ غیرقانونی کارروائی ہوئی تو تو انتظامیہ کو اس کا خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔اس وقت حالات پرامن ہیں۔