جون 5 1تک ہو سکتی ہے جھما جھم بارش

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -11 JUNE

شدید گرمی اور لو سے اب جلد ہی نجات ملنے والی ہے۔مہاراشٹر میں مانسون پہنچ چکا ہے۔ جنوبی مہاراشٹر میں بارش نے دستک بھی دی ہے۔ مانسون 8 جون کو کیرالہ میں داخل ہونے کے صرف دو دن بعد مہاراشٹر میں داخل ہوا ہے۔ مانسون مہاراشٹر کے رتناگیری پہنچ گیا ہے۔ ہر سال کے مقابلے اس سال مانسون چار سے پانچ دن تاخیر سے پہنچا ہے۔مانسون کرناٹک کے شہر شیموگہ، ہاسن اور دھرما پوری، سری ہری کوٹا تک پہنچ گیا ہے۔ اگر ہم ہر سال مانسون کی آمد کی پیشین گوئی پر نظر ڈالیں تو اس سال مانسون  چار سے پانچ دن تاخیر سے پہنچا ہے۔
 مہاراشٹر کے کسانوں اور عام شہریوں کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ مانسون کب آئے گا؟ کافی انتظار کے بعد مانسون کل یعنی 11 جون کو مہاراشٹر میں داخل ہوا تھا۔قیاس کیا جاتا ہے کہ شدید گرمی اور لو سے پریشان علاقوں کو جلد ہی راحت ملنے والی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پچھلے دنوں مانسون ایک ہفتہ کی تاخیر کے بعد بالآخر کیرالہ پہنچ گیا تھا۔ تاہم سائیکلون’’ بائپر جوئے‘‘ کی وجہ سے ابھی بارشیں متاثر ہوں گی۔جنوب مغربی مانسون اپنے مقررہ وقت سے ایک ہفتہ کی تاخیر کے بعد جمعرات کوبھارت پہنچا تھا۔ماہرین موسمیات نے پہلے ہی کہا تھا کہ سمندری طوفان’’ بائپر جوئے‘‘  مانسون کو متاثر کر رہا ہے۔مانسون جنوبی بحیرہ عرب کے بقیہ حصوں اور وسطی بحیرہ عرب کے کچھ حصوں اور پورے لکشدیپ خطہ، کیرالہ کے بیشتر حصوں، جنوبی تمل ناڈو کے بیشتر حصوں، کومورین خطے کے بقیہ حصوں، خلیج منار اور جنوب مغرب میں آگے بڑھ چکا ہے،بیان وسطی اور شمال مشرقی خلیج بنگال کے کچھ حصوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
  قابل ذکر ہے کہ جنوب مغربی مانسون عام طور پر 1 جون تک کیرالہ پہنچ جاتا ہے۔مئی کے وسط میں، آئی ایم ڈی نے کہا تھا کہ مانسون 4 جون کے آس پاس کیرالہ پہنچ سکتا ہے۔ نجی موسم کی پیش گوئی کرنے والے مرکز’’اسکائی میٹ‘‘ نے 7 جون کو کیرالہ میں مانسون کی آمد کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ مانسون 7 جون سے تین دن آگے بڑھ سکتا ہے۔ آئی ایم ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق، کیرالہ میں مانسون کے آغاز کی تاریخ گزشتہ 150 سالوں میں مختلف رہی ہے، جو کہ 1918 میں 11 مئی کے آغاز سے لے کر 1972 میں 18 جون کے آخر میں شروع ہوئی تھی۔اسی طرح جنوب مغربی مانسون گزشتہ سال 29 مئی، 2021 میں 3 جون، 2020 میں 1 جون، 2019 میں 8 جون اور 2018 میں 29 مئی کو کیرالہ پہنچا تھا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کیرالہ میں مانسون کے شروع ہونے میں تاخیر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شمال مغربی بھارت میں مانسون کے شروع ہونے میں تاخیر ہو۔ تاہم، کیرالہ میں مانسون کے تاخیر سے شروع ہونے کا تعلق عام طور پر جنوبی ریاستوں اور ممبئی میں تاخیر سے شروع ہونے سے ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں مانسون کی آمد میں تاخیر بھی اس موسم کے دوران ملک میں ہونے والی کل بارش کو متاثر نہیں کرتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے پہلے ہی کہا تھا کہ ’’ایل نینو‘‘ حالات کی ترقی کے باوجود، ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کے موسم کے دوران معمول کی بارش ہونے کی توقع ہے۔ شمال مغربی بھارت میں عام یا کم بارشوں کی توقع ہے۔ مشرقی اور شمال مشرق، وسطی اور جنوبی جزیرہ نما میں اس مدت کے دوران معمول کی 94 سے 106 فیصد بارش متوقع ہے۔مانسون کی مدت کے دوران اوسط سے 90 فیصد سے کم بارش کو ‘معمول سے کم بارش سمجھا جاتا ہے، 90 فیصد سے 95 فیصد کے درمیان کی بارش کومعمول سے زیادہ اور 105 فیصد اور 110 فیصد کے درمیان کی بارش کو معمول سے زیادہ بارش سمجھا جاتا ہے۔
ادھر بھارت کے متعدد علاقوں کے ساتھ ساتھ بہار اور جھارکھنڈ میںشدید گرمی اور لو کی قہر نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔پچھلے کئی دنوں سے درجہ حرارت اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ دن بھر سڑکوں پر خاموشی چھائی رہتی ہے۔لو گ اپنے گھروں میں ہی رہنا مناسب سمجھتے ہیں۔حفظان صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی دنوں سےمسلسل شدید گرمی برقرار رہنے سے لوگ بہت بیمار پڑ رہے ہیں۔قے، اسہال، بے سکونی، بخار، زیادہ پسینہ آنا، پیٹ اور سردرد، یرقان، ہاتھ پاؤں میں درد اور جلد سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے ڈائریا وارڈز بھرے پڑے ہیں۔ ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تھکن کی علامات جیسے کمزوری محسوس ہونا، چکر آنا، سردرد اور متلی کے کیسز زیادہ آ رہے ہیں۔اسی درمیان جنوبی مہاراشٹر میں بارش کی دستک نے یہ امید دلادی ہے کہ جلد ہی گرمی اور لو کی آفت سے نجات ملنے والی ہے۔حالانکہ بہار اور جھارکھنڈ کے لوگوں کو ابھی چار پانچ دنوں تک انتظار کرنا ہوگا۔ 15 جون تک  جھما جھم بارش ہو سکتی ہے۔
***************************