TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -11 JUNE
لاہور،11جون:جہانگیر ترین جوعمران خان کے دست راز تھے اب کے ان کے حریف ہوگئے۔ اور تحریک انصاف پارٹی کے بیشتر رہنما ان کی نئی جماعت استحقام پاکستان پارٹی جوق درجوق شمولیت کررہے ہیں عمران خان کو وزیراعظم بنانے میں فوج کے علاوہ جہانگیر ترین کا بہت اہم رول رہا کیونکہ اس نے اپنے دولت کے بل بوتے پر بہت سارے جماعتوں کے رہنمائوں کو عمران خان کی حمایت کرنے پر راضی کرلیا ۔ جہانگیر ترین جس بھی چیز کو ہاتھ لگا رہے ہیں وہ سونا بن جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے جب انہوں نے نئی پارٹی کی داغ بیل ڈالی تو اس وقت عمران خان کے سارے قریبی ساتھی اور دوست جن میں فواد چوھری ،علیم خان ،عامر کیانی ،ڈاکٹر فروس عوان کے علاوہ سو سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ نے شمولیت کی ۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے ایک لیکچرر تھے اور وہ ارب پتی کاروباری ہیں حالانکہ سپریم کورٹ نے انہیں تا حیات سیاست سے نااہل کیا ہے ۔ وہ سیاسی سرگرمیاں سے دور نہیں رہے ا ن کے والد ایواب کے خان کے دور میں ڈی آئی جی کے عہدے پر تھے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد ان کے والد نے کاشت کاری اختیار کی ۔ اور جہانگیر ترین کو تعلیم کے لئے لاہور بھیجا جب کہ انہو ںنے امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی ۔ لیکن لیکچرر کی نوکری چھوڑکر انہو ںنے گھر واپس جاکر کاشت کاری کی ۔ ان کے والدین کے پاس 400ایکٹر زمین تھی او رجب اس کاربار میں منافع ہوا تو انہوں نے آس پاس کی زمینیں بھی خریدی اور اب ایک اندازے کے مطابق پنجاب اور سندھ میں 45ہزار ایکٹر زمین ہیں۔ جہانگیر ترین کے خاندان کے رشتے داروں میں جنوبی پنجاب اور سندھ کے اہم ترین سیاسی خاندان ہیں۔ ان کے چچرے بھائی ہمایو اختر خاندان اور مخدود احمد مخدوم پہلے سے ہی سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ مشرف کے دور میں مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے اور قومی اسمبلی کے لودھرا ں حلقے سے منتخب ہوئے انہیں وفاقی وزیر بنانے کی پیشکش کی لیکن انہو ںنے اس پیشکش کو ٹھکرایا ۔ وہ وزیراعظم شوکت عزیز کے حکومت میں وزیرصنعت بن گئے۔ 2011میں انہوںنے ایک مضبوط سیاسی گروپ بنایا اور وہ عمران خان کے تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ لیکن جہانگیر ترین کے خلاف ایک عدالتی فیصلے کے بعد ان پر پارلیمانی سیاست کا دروازہ اس وقت بند ہو گیا جب سابق جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے دسمبر 2017 میں جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کر دیا۔ یہ وہی شق ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف بھی نااہل ہوئے تھے۔جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں کو توڑ کر تحریک انصاف میں لانے کا سہرا بھی جہانگیر ترین کے سر جاتا ہے۔ انھی کی کوششوں سے تین درجن سے زائد مسلم لیگی امیدواران نے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا اور پھر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔انتخابات کے بعد جب پی ٹی آئی کو مطلوبہ اکثریت نہ مل سکی تو یہ جہانگیر ترین ہی تھے جو تن تنہا اپنا جہاز لے کر نکلے اور آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے ارکان کو اپنے پرائیوٹ جیٹ میں لاد کر بنی گالہ لے کر آئے۔صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق اقتدار کے چند ہی ماہ میں جہانگیر ترین کا قریبی حلقہ اثر عمران سے دور ہوتا گیا یا دور کر دیا گیا۔ان کے مطابق ترین اور عمران میں فاصلے بڑھنے لگے مگر ’جب بھی کوئی بڑا معاملہ ہوتا کسی پارٹی سے ڈائیلاگ یا اتحاد کی بات ہوتی تو جہانگیر ترین کو بلایا جاتا۔ مگر پھر وقفے بڑھتے گئے۔‘’اس دوران عمران کی نئی کچن کابینہ بن گئی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ، فرسٹ لیڈی بشریٰ بی بی اور زلفی بخاری اس کابینہ کے اہم ترین رکن بن گئے۔ یوں جہانگیر ترین کا رہتا سہتا اثرو رسوخ اور بھی کم ہو گیا۔