دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -13 JUNE

اب یہ بات طے ہو گئی ہے کہ ہندوستان عوامی مورچہ کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ  جیتن رام مانجھی ملک میں جاری اپوزیشن اتحاد کی مہم سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔اس امر کی توثیق  جیتن رام مانجھی کے بیٹے اور نتیش کمار کابینہ کے وزیرسنتوش کمار مانجھی کے ذریعہ کل دئےگئے استعفیٰ سے ہوتی ہے۔ ویسے گذشتہ دنوں  جیتن رام مانجھی نے بذات خود 23 جون کو پٹنہ میں ہونے والی اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے کہا تھا کہ نتیش کمار ان کے لیڈر ہیں۔اس کے باوجود سنتوش کمار مانجھی کا نتیش کابینہ سے استعفیٰ دیا جانا اور ان کے والد جیتن مانجھی کا اپنے بیٹے کی ہاں میں ہاں ملانا ، یہ ثابت کرتا ہے کہ اس دل برداشتگی کے پیچھے ضرور کوئی بڑی وجہ ہے۔
سنتوش سمن کے استعفیٰ پر سیاست سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ جیتن رام مانجھی اپنی سیاست کے حساب سے اپنا پہلو بدلتے رہنے کے معاملے میں مشہور ہیں۔ وہ موقع محل کے اعتبار سے مختلف باتیں کرتے رہے ہیں۔آر جے ڈی سے وابستہ ایک رہنما کا کہنا ہے کہ  2015 میں بھی جیتن رام مانجھی نے طرح طرح کی باتیں کرتے ہوئے ایک الگ راہ اختیار کر لی تھی۔پھر واپس آنے کے بعد نتیش کمار ہی تھے، جنہوں نے مانجھی کو سیاسی طور پر انھیں کھڑا کیا۔اب مانجھی اسی برادری میں شامل ہونا چاہتے ہیں، جو انھیں عام حالات میں پوچھتا تک  نہیں ہے ۔ جب مانجھی مندر گئے تھے تو وہ مندر کو دھویا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی وہ اسی گروہ میں جا نے کے لئے تیار ہیں۔ ان کی سوچ قوت کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔وہ ہمیشہ سیاسی فائدے کی بات سوچتے ہیں۔وہ مستقل مزاج بالکل نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ رام ولاس پاسوان کے بعد اب کچھ لوگ  جیتن رام مانجھی کو ہی ’’ موسم وگیانی‘‘ کہنے لگے ہیں۔
  ادھر جیتن رام مانجھی کے مزاج سے واقف چند سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ2024 کے لوک سبھا انتخابات کے مد نظر انھوں نے دباؤ کی سیاست شروع کر دی ہے۔ ایک طرف وہ کم سے کم 5 پارلیمانی سیٹوں کے لئے دباؤ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف اپنی سیاست کے آخری پڑاؤ میں کسی ریاست کے گورنر بننے کے جگاڑ میں ہیں۔ ایک طرف وہ نتیش کمار کو اپنا رہنما بھی بتا رہے ہیں تو دوسری طرف بی جے پی کے رحم و کرم کے بھی منتظر ہیں۔ قابل ذکر ہے چند دنوں قبل  سنتوش کمار مانجھی نے اگلے لوک سبھا انتخابات میں 5 سیٹوں کا مطالبہ کیا تھا۔  اس کے بعد جیتن مانجھی نے کہا تھا کہ وہ بہار کی تمام 40 سیٹوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ پھر یہ خبر اڑائی گئی کہ نتیش کمار نے جیتن مانجھی سے اپنی پارٹی کو جے ڈی یو میں ضم کرنے کے لئے دباؤ بنا رہے ہیں۔سنتوش مانجھی فی الحال ایم ایل سی ہیں۔ 2018 میں وہ پہلی بار ایم ایل سی بنے تھے۔ اس وقت وہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے وزیر تھے۔ 2020 میں نتیش کمار نے سنتوش کو وزیر آبپاشی بنایا۔  سنتوش مانجھی نے یہ استعفیٰ وجے کمار چودھری کو سونپ دیا ہے۔
سیاسی حلقے میںادھر جیتن رام مانجھی اور ان کے بیٹے  کے اس قدم کو، لوک سبھا انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے میں مصروف بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی راہ میں رخنہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔سنتوش  کے استعفیٰ نے ریاست کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ 23 جون کو پٹنہ میںہونے والی اپوزیشن کی میٹنگ سے پہلے اسے بہتر قدم نہیں مانا جا رہا ہے۔حالانکہ سنتوش مانجھی کا الزام ہے کہ نتیش کمار ہماری پارٹی’’ ہندوستان عوام مورچہ‘‘ پر اپنی پارٹی میں ضم ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔لیکن ان کے کارکنان کو یہ پسند نہیں تھا۔  ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بڑی محنت سے پارٹی بنائی ہے اور عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنی پارٹی کو جے ڈی یو میں ضم کر دیتے تو یہ آواز دم توڑ دیتی، اس لیے میں نے کابینہ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ جیتن رام مانجھی پچھلے دو ماہ سے بی جے پی کے قریب ہیں۔بس اتحاد کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔اس سلسلے میںسنتوش مانجھی کاکہناہے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ابھی بات فائنل نہیں ہوئی ہے۔شاید وہاں گورنر ی کے ساتھ ساتھ بہار میں ایک ایم ایل سی کی سیٹ کے لئے بات چیت چل رہی ہے۔چنانچہ وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ان کی پارٹی آئندہ الیکشن میں اکیلے لڑ ے گی یا کسی اور کے ساتھ اتحاد کر ے گی ، لیکن جیسا کہ سننے میں آ رہا ہے کہ جیتن رام مانجھی اس بار کہیں بھی چلے جائیں، جے ڈی یو ان کے سامنے گھاس ڈالنے نہیں جا رہا ہے۔عام لوگوں کے لئے اس بار یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
***