راج ناتھ سنگھ نے دہرایا، عالمی سطح پر ہندوستان کا وقار اور قد بلند ہوا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -26 JUNE

جموں، 26 جون: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پھر دہرایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں عالمی سطح پر ہندوستان کے وقار اور قد میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا اب ہندوستان کو زیادہ توجہ سے سن رہی ہے۔ پیر کو جموں کے اپنے دورے کے دوران وہ زوراور سنگھ آڈیٹوریم میں منعقدہ دفاعی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے جب بھارت بین الاقوامی فورمز پر کچھ کہتا تھا، تو اسے اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔ مودی کی قیادت والی حکومت کے تحت، بین الاقوامی سطح فورمز پر ہندوستان کی ساکھ بڑھی ہے اور اسی طرح اس کا قد بھی بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ وزیر اعظم کے حال ہی میں ختم ہونے والے دورہ امریکہ اور مصر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس دوران کئی تاریخی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں پی ایم مودی کی بیرون ملک رسائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نیکہا کہ ایک ملک کے وزیراعظم نے انہیں ‘باس’ کہا، جب کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ مودی اتنے مقبول ہیں کہ ہر کوئی ان کا آٹو گراف لینا کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی جانب سے 2014 کے بعد دفاعی شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی معلومات دی ۔ سرحد پر رہنے والے لوگوں کی حفاظت کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرحد پر رہنے والوں کو سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ہر سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع کے دورے کے پیش نظر جموں کے آس پاس کے علاقوں میں ہائی الرٹ ہے اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ بیس کیمپ بھگوتی نگر، پریڈواقع گیتا بھون، پرانی منڈی میں واقع رام مندر اور مہاجن ہال، ریلوے اسٹیشن جموںمیں واقع سرسوتی دھام، پنچایت بھون، ویشنوی دھام اور ٹی آر سی کو سیکورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ شہر کے اہم چوک چوراہوں پر پولیس کی خصوصی ٹیم بھی تعینات کی گئی ہے۔ سرحدی علاقوں کو شہر سے ملانے والے تمام راستوں پر نیم فوجی دستوں اور متعلقہ تھانوں کی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اس کے بعد تریکوٹہ نگر میںواقع ریاستی بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ریاستی صدر رویندر رینا اور دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھمیٹنگ کریں گے اور ریاست کی سیاسی صورتحال اور تنظیمی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے ۔