سوِل سوسائٹی کو آگے آنے کی ضرورت

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -14 JUNE

ریاست اتراکھنڈکی خاموش وادیوں میں فرقہ واریت کی پر شور بازگشت گزشتہ تقریباََ 20 دنوں سے سنائی دے رہی ہے۔ وہاں کا ماحول اس حد تک خراب ہو گیا ہے کہ مسلم کمیونٹی کے لوگ اپنے کاروبار سمیٹ کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بہت سے مسلم خاندان متاثرہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ حالانکہ پولیس انتظامیہ اس خبر کی تردید کر رہی ہے اور نقل مکانی کی خبروں کو بے بنیاد بتا رہی ہے۔ لیکن چشم دیدلوگوں کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اتراکھنڈ کے اترکاشی ضلع کے پورولا قصبے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اس وقت سے زیادہ بڑھ گئی ہےجب ہندو شدت پسندوں کے ہجوم نے ایک مسلم دکاندار پر حملہ کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے، جس میں دائیں بازو کے کارکنان کا ایک گروپ جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک مبینہ مسلم دکاندار کے بند دروازے پر لاٹھیوں سے حملہ کر رہا ہے۔ اس کے بعد کشیدگی اس وقت بڑھ گئی، جب مسلمان تاجروں کو شدت پسندوں کے ہجوم کے ذریعہ اعلانیہ طور پر اپنی دکانیں چھوڑنے کی تنبیہ کی گئی۔ ان کی دکانوں پر دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں کر دیے گئے۔ خوف و دہشت کے اس ماحول میں مسلمانوں کی دکانیں پوری طرح سے بند ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک دکانیںنہیں کھل سکی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق مقامی تاجر شکیل نے اپنا 42 سالہ کاروبار چھوڑ کر دہرادون میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرولا میں بگڑتے ماحول کی وجہ سے انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ شکیل کا کہنا ہے کہ ان کے والد 42 سال قبل یہاں آئے تھے اور کپڑوں کی تجارت کرتے تھے۔ تقریباً 15 سال پہلے انہوں نے پرولا میں کپڑے کی دکان کھولی تھی۔ لیکن اب بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے وہ دہرادون شفٹ ہو رہے ہیں۔ شکیل بتاتے ہیں کہ کرن پور میں ان کی دکان ہے۔ ان کے بھائی کا وہاں پہلے سے میڈیکل اسٹور ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پرولا میں اب تک تقریباََ 8 تاجروں نے اپنی دکانیں چھوڑ دی ہیں، جب کہ یمنا وادی میں اپنی دکانیں چھوڑنے والوں کی تعداد اب بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔جب سے ماحول خراب ہوا ہے، مسلم تاجر علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ سے بی جے پی رہنما اور کارکن بھی بچ نہیں سکے ہیں۔ اترکاشی سے بی جے پی اقلیتی سیل کے ضلعی سربراہ محمد زاہد بھی بدھ کو اپنے خاندان کے ساتھ پرولا سے روانہ ہوگئے۔ زاہد کا کہنا ہے کہ وہ تین سال قبل بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور وہ 25 سال سے یہاں رہ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی رہنما علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حکمران جماعت کے رہنما یہاں محفوظ نہیں تو عام لوگ یہاں کیسے محفوظ ر ہ سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ گزشتہ26 مئی کو عبید اور جتیندر سینی کو مقامی لوگوں نے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ پکڑ لیاتھا۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ وہ لڑکی کو بھگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اہل علاقہ نے دونوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ دونوں لڑکے نجیب آباد کے رہنے والے ہیں اور گدے کی دکان پر کام کرتے تھے۔ جس کے بعد شدت پسند ہندو تنظیموں نے اس مسئلہ کو مبینہ’’ لو جہاد‘‘ کا رُخ دے دیا اور مسلم تاجروں کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔اس کے بعد ریاست کی پر سکون وادیوں میں فرقہ پرستی کا جو شور شروع ہوا ہے وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دونوں طرف سے معاملے کو ہوا دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ وی ایچ پی اور بجرنگ دل نے آج 15 جون کو مہاپنچایت منعقد کرنے کے لئے بضد ہیں ۔ مسلم کمیونٹی بھی 18 جون کو جوابی مہاپنچایت کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم مقامی انتظامیہ نے ماحول کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لئے مہاپنچایت کی اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئے کل بدھ سے ہی پورے متاثرہ علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے۔سیکیورٹی کے لیے پی اے سی کی ایک کمپنی بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نےمہاپنچایت کے انعقاد کو روکنے کے معاملے میں براہ راست مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے سب کو امن برقرار رکھنے کو کہا ہے۔ اگر کوئی قصوروار ہے تو اس کے خلاف قانون کام کرے گا۔حالانکہ مہاپنچایت کو لے کر سیاست کا بازار گرم ہے۔ پرولا کے ایم ایل اے درگیشور لال کا کہنا ہے کہ مہاپنچایت کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، لیکن مقامی لوگوں میں غصہ ہے۔ اس لیے اگر کوئی اشتعال انگیزی کا قدم اٹھاتا ہے تو ہم بھی چپ نہیں بیٹھیں گے۔ دوسری طرف کانگریس کے ریاستی نائب صدر سوریہ کانت دھاسمنا نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سے ملاقات کی اور مہاپنچایت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔اس تنازعہ کو لے کر 52 سابق نوکرشاہوں نے بھی چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو کھلا خط لکھا ہے۔ آل انڈیا اور سینٹرل سروسز کے سابق نوکرشاہوں نے ریاست میں فرقہ وارانہ جنون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مہاپنچایت میں فرقہ وارانہ جنون پھیلانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ایسے میں ریاست اتراکھنڈکی خاموش اور پر سکون وادیوں میںپر امن بقائے باہم کے اصول پر زندگی گزارنے والے جمہور پسند عوام کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ریاست کو فرقہ واریت کی آگ سے بچانے کے لئے سول سوسائٹی کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے۔
*******************