طیب اردغان کے حریف سیاست دان استنبول کے میئرکے خلاف کرپشن کیس کی سماعت کا آغاز

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -16 JUNE

استنبول،16جون: ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول کے میئر اکرام امام اوگلو کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ صدر رجب طیب ایردوآن کے سیاسی حریف سمجھے جانے والے رہ نما کے خلاف یہ کیس ان کے سیاسی کیریئر کو ختم کرسکتا ہے۔ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رکن امام اوگلو پر 2015 کے آخر میں جب وہ استنبول کے مضافاتی علاقے ‘بیلیک دوزو’کے میئر تھے مالیاتی معاہدے میں جعلسازی کے شبے میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ تاہم وہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے آئے ہیں۔امام اوگلو کے دفتر نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اس مقدمے کی پہلی سماعت ملزم کی غیر موجودگی میں ہوئی جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اسی ذریعے نے مزید کہا کہ کیس کی سماعت تیس نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ ترکیہ میں 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپوزیشن کے ممکنہ امیدوار کو سات سال تک قید اور نااہلی کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امام اوگلو 2019 میں استنبول کے میئر بننے کے بعد سے عدالتی ہدف بنے ہوئے ہیں۔ ان کے استنبول کے میئر بننے سے صدر رجب طیب ایردوآن کی پارٹی کو شدید دھچکا لگا تھا۔ امام اوگلو نے ایردوآن کی جماعت ’آق‘ کا استنبول پر 25 سالہ اقتدار ختم کردیا تھا۔گذشتہ دسمبر میں اکرم امام اوگلو کو سپریم الیکشن کمیشن کے ارکان کی “توہین” کرنے کے الزام میں ان کو سیاسی حقوق سے محروم کرنے کے علاوہ دو سال اور سات ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی کہ وہ اب تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔اکرام امام اوگلو کو سنائی جانے والی سزا پر عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور اس فیصلے کی مذمت کی گئی تھی۔اس فیصلے کی وجہ سے امام اوگلو کو گذشتہ مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے باہر کر دیا گیا، حالانکہ ترک اپوزیشن کا ایک حصہ انہیں طیب ایردوآن کے جرات مند اور بے باک حریف کے طور پر دیکھتا ہے۔