علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الیومنی ایسوسی ایشن قطر کے بلڈ ڈونیشن کیمپ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے خون کا عطیہ دیا ۔

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -17 JUNE

دوحہ 17 جون
گزشتہ جمعرات بتاریخ 15 جون کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الیومنی ایسوسی ایشن نے حمد میڈیکل کارپوریشن کے قومی بلڈ ڈونیشن سنٹر میں خون کا عطیہ دینے والوں کے بین الاقوامی دن کی مناسبت (جو کہ ہر سال 14 جون کو منایا جاتا ہے) ایک بلڈ ڈونیشن کیمپ لگایا جس میں بڑی تعداد میں والینٹیرز نے خون کا عطیہ دیا۔
اس موقع پر صدر تنظیم ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی نے کہا کہ خون کا عطیہ دینا ایک انتہائی نیک عمل اور انسانیت کی بے لوث خدمت ہے۔ یہ کسی ضرورت مند کے کام آسکتا ہے نیز خون دینے والے کی صحت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
واضح ہو کہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی الیومنی ایسوسی ایشن قطر ، آئی سی بی ایف سے رجسٹرڈ تنظیم ہے جو قطر کے ہندوستانی سفارت خانے کے اندر کام کرتی ہے۔ اس موقع پر مہمان اعزازی آئی سی بی ایف کے نائب صدر جناب دیپک شیٹی نے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے آبنائے قدیم کو اس قابل تحسین قدم پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ تنظیم خیر کے کاموں میں ہر جگہ پیش پیش رہتی ہے۔
آئی سی بی ایف کے علاوہ اے ایم یو ٹوسٹ ماسٹرس کلب اور انٹگرل یونیورسٹی الیومنی ایسوسی ایشن نے بھی اس کیمپ میں بھر پور تعاون کیا۔ ٹوسٹ ماسٹرس انٹر نیشنل کی جانب سے قطر کی ڈویژن ایی کی ڈائرکٹر نرملا رگھو رمن نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے کیمپ کا جائزہ لیا اور ایسوسی ایشن کی کوششوں کو سراہا۔
علی گڈھ مسلم یونیورسٹی الیومنی ایسوسی ایشن قطر کی جانب سے نائب صدر انجینئر فیصل نسیم اور ہیڈ آف اسپورٹس جناب فرخ فاروقی نے کیمپ کے انعقاد کی زمہ داری بحسن وخوبی انجام دی۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین انجینئر جاوید احمد نے مختلف ایسوسی ایشن کے زمہ داران جن میں سابق آئی سی بی ایف صدر جناب
زیاد عثمان، وارکی بوبان، انٹگرل یونیورسٹی الیومنی ایسوسی ایشن کے صدر جناب ماجد علی، وویک چترویدی اور حمد میڈیکل کارپوریشن کے جناب ارشد صاحب کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر محمد فرمان خان ( جنرل سکریٹری), ڈاکٹر آشنا نصرت ( نائب صدر لیڈیز ونگ)، ممنون احمد بنگش، آباد خان، شفقت نبی، محمد نعیم امان، صائمہ رفعت، مہہ جبیں انجم، سید شہاب الدین کے علاوہ ہائی اسکول کے بچوں نے بھی کیمپ میں والینٹیرز کے طور پر کام کیا۔ان میں الماس احمد، آمنہ انجم حسین، رشدہ انجم حسین، آمنہ شہاب اور امان شہاب کے نام قابل ذکر ہیں۔