فرفرا میں آئی ایس ایف نے سی پی ایم کا ہاتھ تھاما، حکمران کے خلاف طاقت بڑھانے کے لئے اتحاد

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -14 JUNE

 ہگلی14/جون(محمد شبیب عالم) کیا 2021 کے اسمبلی انتخابات کی طرح پنچایتی انتخابات میں آئی ایس ایف اور سی پی ایم ملیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہگلی ضلع کے علاقے میں گردش کر رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ فرفرا گاؤں گرام کی پنچایت میں ترنمول کے خلاف یہ لڑیں گے۔ منگل کو فرفرا شریف میں ابراہیم صدیقی کے دربار میں میٹنگ بلائی گئی ۔ اس میٹنگ میں بائیں بازو کی مقامی قیادت موجود تھی ۔ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ سی پی ایم اور آئی ایس ایف ذرائع کے مطابق فرفرا گرام پنچایت کی کل 29 سیٹوں میں سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سی پی آئی ایم 15 سیٹوں پر اور آئی ایس ایف 14 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی ۔ گزشتہ کل ایم ایل اے نوشاد صدیقی نے کہا تھا کہ ‘اس بار بھانگڑ ماڈل ہوگا۔ پھر اسی دن شام تک اتحاد کا فیصلہ کر لیا گیا۔ بہت سے ادھر ادھر کی باتوں ، بہانوں کے بعد بالآخر لیفٹ اور آئی ایس ایف کا یہ اتحاد فرفرا سے شروع ہوا۔ لیکن جب آئی ایس ایف سے ہاتھ ملانے کو لیکر بات آئی تو کانگریس کی طرف سے کوئی جوش و خروش نہیں دکھا گیا۔ درحقیقت اس سے قبل یعنی 2018 کے پنچایت انتخابات کے دوران ترنمول نے فرافرا کی تمام سیٹیں اکیلے ہی جیتی تھیں ۔ اب اس دفعہ دیکھنا ہے ترنمول سے وہی پرانی ہمدردی فرفرا کے عوام کی برقرار ہے یا اپنی زمین کھو دی ہے ترنمول کانگریس اسکا جواب گیارہ جولائی کو ہی ملےگا۔