TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –20 JUNE
سننے میں آ رہا ہےتمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن23 جون کو پٹنہ میں منعقد ہونے والی کل جماعتی اپوزیشن میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ انھیں باضابطہ مدعو کر نے کے لئے آبی وسائل کے وزیر سنجے جھااور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو چنئی پہنچ گئے ہیں۔حالانکہ پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ اسٹالن اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، لیکن سنجے جھااور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو کے ذریعہ مل کر دعوت دینے کے بعد ا نھوں نے شرکت کے لئے حامی بھر لی ہے۔حالانکہ دو دن پہلے تک یہ بات طے تھی کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے مل کر انھیں23 جون کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اورنائب وزیر اعلی تیجسوی یادوچنئی جائیں گے، لیکن آخری وقت میں اچانک پروگرام بدل گیا اور نتیش کمار کی جگہ آبی وسائل کے وزیر سنجے جھا نائب وزیر اعلی تیجسوی یاد و کے ساتھ منگل کوتمل ناڈ روانہ ہو گئے ۔
اسی درمیان یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ اتر پردیش کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے سربراہ اکھلیش یاو بھلے ہی 23 جون کی میٹنگ میںشرکت کے لئے پٹنہ آ رہے ہیں لیکن اتر پردیش کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والوں کا ماننا ہے کہ اکھلیش یادو بھلے ہی تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ قربت دکھا رہے ہوں، لیکن ان کا موقف اپوزیشن اتحاد کے موقف کے نزدیک نہیں ہے۔ پٹنہ میں 23 جون کو ہونے والی میٹنگ میں اپوزیشن اتحاد پر بات تو ہوگی ہی ، لیکن اس اتحاد کے ساتھ اکھلیش یادو کب تک رہیں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان اتحاد چند ماہ ہی چل سکا تھا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے بعد دیکھنے کو ملی۔ یوپی الیکشن 2022 کے بعد بھی حالات کچھ بہتر نظر نہیں آئے۔ اس بار چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ آئی سماج وادی پارٹی اپنے ساتھیوں کو ساتھ رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اکھلیش یادو کے بر عکس 2003 میں اقلیتی حکومت بنا کر اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہونے والے ان کے والد ملائم سنگھ یادو نہ صرف اپنے دوستوں کو بلکہ اپنے سیاسی مخالفین کو بھی ساتھ رکھنے کا فن جانتے تھے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سال 2012 میں یوپی کی کمان سنبھالنے کے بعد جب اکھلیش یادو نے سماج وادی پارٹی میں اپنی رسائی کو بڑھانا شروع کیا تھا تو خاندان میں ہی اختلافات پیدا ہوگئے۔ جب 2017 آیا تو خاندان ٹوٹ چکا تھا۔ اکھلیش نے سماج وادی پارٹی کے ساتھ ساتھ یوپی کے اقتدار پر بھی قبضہ کر لیا۔ ملائم سنگھ یادو کو پارٹی کا سرپرست بنا کر ایک طرح سے انہیں پارٹی کی سرگرمیوں سے الگ کر دیا گیا۔ شیو پال یادو نے الگ پارٹی بنائی تھی۔ اکھلیش کی سطح سے فیصلہ لیا جانے لگا۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے جھٹکے سے نکلنے کے لیے، پارٹی نے 2017 میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا۔ مگر اکھلیش اور راہل گاندھی کی جوڑی کوئی خاص کارنامہ نہیں کر سکی۔ بی جے پی ریاست میں بھاری اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئی۔ جب اکھلیش نے دیکھا کہ کانگریس کے ساتھ رہنے سے انہیں کوئی ٹھوس فائدہ نہیں ہوا تو انہوں نے اس سے واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اکھلیش یادو کی اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے میں مسلسل ناکامی کی وجہ سے آج صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد میں ان کے لئے نرم گوشہ تلاش کرنا مشکل ہورہا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ بہار میٹنگ میں نتیش کمار یا راہل گاندھی کو اپوزیشن اتحاد کے چہرے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے 2013 میں گوا میں بی جے پی کی میٹنگ میں اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین قرار دیا گیا تھا۔ اب اگر اس قسم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سوال یہ ہوگا کہ کیا اکھلیش یادو اسے قبول کریں گے؟ اوراگر معاملہ نتیش کمار تک پہنچتا ہے تو کیا صورتحال مزید نازک نہیں ہو سکتی ہے ؟
یوپی میں بہار کی 40 لوک سبھا سیٹوں سے دوگنی 80 سیٹیں ہیں۔بلا شبہہ سماج وادی پارٹی جے ڈی یو سے بڑی پارٹی ہے۔ تاہم لوک سبھا میں ممبروں کی تعداد کو دیکھیں تو جے ڈی یو کے پاس 16 ایم پی ہیں اور سماج وادی پارٹی کے پاس فی الحال 3 ایم پی ہیں۔ ایسی حالت میں بھی اکھلیش کے لیے نتیش کی قیادت کو قبول کرنا مشکل فیصلہ ہوسکتا ہے۔ تاہم سماج وادی پارٹی نتیش کے چہرے کا استعمال کرکے اتر پردیش میںایک الگ ماحول بنانے پر غور کر سکتی ہے۔ لیکن، کانگریس بھی نتیش کے پلیٹ فارم پر ہوگی۔ یوپی میں کانگریس اپنی تیاریوں میں ہے۔ ایسے میں کیا ایس پی اور کانگریس کے درمیان مضبوط اتحاد قائم ہو سکتا ہے؟ اس طرح کے کچھ اور سوالات ہیں، جن میں سے کچھ کے جواب 23 جون کی میٹنگ اشاروں اشاروں میںاور کچھ کے جواب براہ راست دیگی۔حالانکہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ 23 جون کے بعد قومی سیاست میں تبدیلی کا راستہ ہموار ہوگا۔
**********************