TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –7 JUNE
بہار اور جھارکھنڈ پچھلے کئی دنوں سے شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک کی زد میں ہے۔ عام زندگی بری طرح سے متاثر ہے۔ ان دونوں ریاستوں کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں اگلےچار پانچ دنوں تک گرمی کی لہر کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گرمی کی لہر کے حالات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میدانی علاقوں میں کم از کم40 ڈگری سینٹی گریڈاور پہاڑی علاقوں میں کم از کم 30 ڈگری سینٹی گریڈتک پہنچ جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بیشتر مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا ہے۔ 7 اور 8 جون کو محکمہ موسمیات کی جانب سے بہارکے 9 اضلاع میں ہیٹ ویو کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ بیگوسرائے،بانکا، پورنیہ، مشرقی چمپارن، شیخ پورہ، بھاگلپور، کھگڑیا، ارریہ اور سپول میں گرمی کی لہر کے لیے اورنج اور یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
بہار میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کھگڑیا ضلع میں سب سے زیادہ 43.3 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پٹنہ کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سیلسیس رہا ہے۔ گیا کا 41.5، اورنگ آباد کا41.3نالندہ کا 41.9 نوادہ کا 41.8 شیخ پورہ کا 42.7 اور جموئی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41.9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بیگوسرائے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.9بانکا 41.8 کٹیہار 41.7 پورنیہ 42.5 اور ویشالی میں 41.8 ڈگری سیلسیس تھا۔ والمیکی نگر میں 43 ڈگری، موتیہاری میں 41.8 ڈگری، مظفر پور میں 38.8 دربھنگہ میں 40.4 سپول میں 40.6ارریہ میں 40.3 اور پورنیہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 11 جون تک بہار کے کئی حصوں میں گرمی کی لہر کا امکان ہے۔ مشرقی چمپارن، پورنیہ اور بیگوسرائے میں 8 اور 9 اپریل کو گرمی کی لہر کے حوالے سے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ کھگڑیا، بھاگلپور، ارریہ اور سپول میں گرمی کی لہر کے حوالے سے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ کھگڑیا، بھاگلپور، بانکا اور جموئی کے لیے10 اور 11 جون کو گرمی کی لہر کے حوالے سے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ ارریہ، اورنگ آباد، نالندہ اور نوادہ میں ہیٹ ویو کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
ادھر راحت کی بات یہ ہے کہ بھارت میں شروع ہونے والا جنوب مغربی مانسون اگلے 48 گھنٹوں میں کیرالہ میں دستک دے سکتا ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کیرالہ میں مانسون (آئی ایم ڈی مانسون اپ ڈیٹ) کے آغاز کے لیے موسمی حالات سازگار نظر آ رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی نے مئی میں پیش گوئی کی تھی کہ بھارت میں 4 جون کو مانسون کیرالہ کے ساحل پر دستک دے گا۔ عام طور پر، جنوب مغربی مانسون ہر سال 1 جون کے آس پاس کیرالہ میں داخل ہوتا ہے۔مانسون کا 1 جون سے 7 دن پہلے یا 7 دن بعد آنا معمول ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی بحیرہ عرب کے دیگر علاقوں میں مان سون کی مزید پیش قدمی کے لیے بھی حالات سازگار ہیں۔ اگلے 48 گھنٹوں میں مانسون پورے لکشدیپ، جنوب مغربی، وسطی اور شمال مشرقی خلیج بنگال کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔ اگلے 2 دنوں میں یہ شمال مشرقی ریاستوں کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔ مانسون بھارت میں زراعت کے لیے بہت اہم ہے۔ ملک میں خریف کی فصلوں کا انحصار صرف بارشوں پر ہے۔بارشوں میں تاخیر سے ملک کے بیشتر علاقوں میں خریف فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان کا اندیشہ ہے۔
ان دنوں موسم کی شدت کا یہ عالم ہے کہ رات کو بھی گرم ہوائیں چل رہی ہیں۔ ایسے میں لولگنے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ایسے میں یہ جاننے کی بات ہے کہ انسان کے جسم کا اوسط درجہ حرارت 37ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اگر انسان کبھی 40 یا 50 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے ماحول میں ہو تو جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھنے لگتا ہے۔ جسم اپنا درجہ حرارت اوسط رکھنے کے لیے پسینہ پیدا کرتا ہے، جس سے جسم کا درجہ حرارت ٹھیک رہتا ہے ، یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔جیسے جیسےپانی کی کمی ہوگی ، پسینہ آنا کم ہوتاجائے گا اور جسم کا درجہ حرارت بڑھتا جائے گا۔اسی صورتحال میںآدمی لو لگنےیعنی ہیٹ اسٹروک کا شکا ر ہوجاتا ہے۔اس صورتحال سے بچنے کے لئے ہر ممکن اقدام کی ضرورت ہے۔ضرورت پڑنے پر فوراََ ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔
************