TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -17 JUNE
بہار میں شدید گرمی اور لو کی لہر مسلسل جاری ہے۔ ہیٹ اسٹروک سے لوگ بڑی تعداد میں بیمار ہو رہے ہیں۔ مختلف اضلاع میں ہیٹ اسٹروک سےلوگ مرنے بھی لگے ہیں۔ نوادہ ضلع میں شدید گرمی نے تباہی مچا رکھی ہے۔لو کی زد میں آکر دو دنوںمیں دو درجن سے زائد افراد جاں بحق ہو چکےہیں۔ تاہم صدر اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیے جانے کی وجہ سے یہاں کے رجسٹر میں کئی لوگوں کی انٹری نہیں ہوسکی ہے۔گھر والوں نے لاشوںکا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کرایا ہے ۔ رجسٹر میں اندراج نہ ہونے اور پوسٹ مارٹم نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔حالانکہ نوادہ صدر اسپتال کے ڈاکٹروں نے صرف 4 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر مکیش کمار کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کی ڈیوٹی کے دوران 4 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ تاہم گرمی سے اموات کے واقعات نے سال 2019 کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جمعہ کو ضلع کے نرہٹ بلاک کے ابگل گاؤں کی ارمیلا دیوی کی صدر اسپتال میں لو لگنے سے موت ہوگئی تھی۔ متوفیہ کے لواحقین کے مطابق وہ دوپہر کے وقت گھر کے باہر غسل کر رہی تھی۔ پھر اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ اسے نرہٹ پی ایچ سی میں داخل کرایا گیا، جہاں سے اسے صدر اسپتال نوادہ ریفر کیا گیا۔ خاتون کو صدر اسپتال سے ویمس، پاواپوری بھی ریفر کیا گیا۔ جب تک لواحقین نے ایمبولینس کا بندوبست کیا تب تک خاتون کی موت ہو گئی۔ اسی طرح جمعہ کو تقریباً سات افراد ہلاک ہوئے۔ایک رپورٹ کے مطابق جمعرات کو بھی 20 افراد ہلاک ہوئے۔ ناقابل برداشت دھوپ اور گرمی کو دیکھتے ہوئے پٹنہ کے اسکولوں کو 24 جون تک بند کر دیا گیا ہے۔
گرمی کی شدت سے لوگ تیز بخار، قے، لوز موشن کی شکایت لے کر ہسپتال پہنچ رہے ہیں۔ادھر دو تین دنوں سے روزانہ سیکڑوں کی تعدا د میںلوگ ان شکایات کے ساتھ سرکاری اسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔ مریضوں کی بڑی تعداد پرائیویٹ کلینک بھی پہنچ رہی ہے۔ ایسی حالت ریاست کے تقریباََ تمام اضلاع کی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی آگ اگلنے لگتا ہے۔گرمی کی لہر کے باعث پورے دن سڑکوں پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔محکمۂ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق ابھی یہی حالت دو تین دنوں تک برقرار رہنے کا اندیشہ ہے۔ویسے ویپر جوائے طوفان کی وجہ سے ، بارش کے سلسلے میںمحکمۂ موسمیات کی کئی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہو چکی ہیں۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں اس بار اچانک شدید گرمی پڑنے لگی ہے۔ اس سال موسم گرما کچھ زیادہ ہی گرم ہونے والا ہے ، یہ پیشین گوئی ماہرین موسمیات نے مارچ مہینے کے شروع میں ہی کر دی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا۔ حالت یہ رہی کہ مارچ کا مہینہ گزشتہ 116 سالوں میں سب سے زیادہ گرم رہا۔ ہندوستان کا محکمہ موسمیات: آئی ایم ڈی نےمارچ تا مئی کے لیے جاری اپنی موسم گرما کی پیشن گوئی میں کہا تھا کہ کئی ریاستوں میں گرمی کی شدت معمول سے زیادہ رہےگی۔ محکمہ نے کہا تھا کہ ملک کا شمال مغربی حصہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا ،جہاں درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری زیادہ رہے گا۔ ملک کے باقی حصوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا۔آئی ایم ڈی نے کہا تھا، ملک کے تمام موسمیاتی ذیلی ڈویژنوں میں درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ شمال مغربی بھارت ایک مستثنیٰ ہے، جہاں درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ جن علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا،ان میں پنجاب، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور تلنگانہ کو شامل کیا گیا تھا۔ مراٹھواڑہ، مدھیہ مہاراشٹر، مہاراشٹر کا ودربھ علاقہ اور آندھرا پردیش گرمی کی شدید لہر کے بنیادی علاقے بتائے گئے تھے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سال 2016سال 1901 کے بعد ریکارڈ کیا گیا گرم ترین سال تھا۔ گزشتہ سال راجستھان کے پھلودی میں پارہ 51 ڈگری تک چلا گیا تھا، جو کہ ملک میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ گزشتہ سال 1600 سے زائد افراد خراب موسم کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ان میں سےتقریباََ 700 افراد کی موت لو لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔لہٰذا، ابھی ضرورت اس بات کی ہے کہ دھوپ میں نکلنے سے ہر ممکن پرہیز کریں۔ساتھ ہی دعا کرتے رہیں کہ اس قہر سے جلد از جلد بھارت کے لوگوں کو نجات ملے۔
**********************