مجھے زندگی بھر یہ افسوس ہوگا کہ اچھا بلے باز ہونے کے ساتھ بالر نہیں بننا چاہیے: اشون

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -17 JUNE

نئی دہلی،16جون : ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کے فائنل کا سب کو انتظار تھا۔ ہندوستان مسلسل دوسری بار فائنل میں پہنچا تھا اور اسے ٹائٹل جیتنے کا دعویدار سمجھا جا رہا تھا لیکن آسٹریلیا نے ٹرافی جیت کر ہندوستان کے خواب کو چکنا چور کردیا۔ آسٹریلیا آئی سی سی کی تمام ٹرافیاں جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔تجربہ کار اسپنر آر اشون کو آسٹریلیا کیخلاف ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں ٹیم انڈیا کے کوچ راہل دراوڈ اور کپتان روہت شرما کے ذریعہ میدان میں اتاری گئی پلیئنگ الیون میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس بارے میں انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں فائنل میچ کھیلنا پسند کرتا؛ کیونکہ میں نے بھی ٹیم کو اس مقام تک پہنچانے میں اپنا کردار اداکیا تھا۔آراشون نے بتایا کہ میں نے نیوزی لینڈ کیخلاف آخری فائنل میں چار وکٹ لیے تھے اور آپ اس گیند بازی کو اچھا سمجھتے ہیں۔ 2018-19 کے بعد جب بھی میں بیرون ملک گیند بازی کرنے اترا تو یہ کافی اچھی رہی ہے۔ میں نے کئی اہم میچوں میں ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا ہے۔ خیر یہ سب کوچ اور کپتان پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ان کو چار تیز گیند بازوں اور ایک اسپنر کے ساتھ جانا تھا۔آر اشون نے بتایا کہ وہ کس طرح بولر بنے اور اپنی بلے بازی کو کم اہمیت دینے لگے۔ یہ خیال ہندوستان اور سری لنکا کا میچ دیکھ کر میرے ذہن میں آیا۔ میں نے دیکھا کہ سچن تندولکر نے چاہے جتنے بھی رنز بنائے، لیکن ہماری باؤلنگ اچھی نہ ہونے کی وجہ سے ہم بہت زیادہ رنز خرچ کرتے تھے۔ اشون نے کہا کہ یہ بچکانہ ہے؛ لیکن سوچا لیا تھا کہ کیا میں ان سے بہتر بولر نہیں بن سکتا جو رنز روک لے۔ اشون نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ایک بات کا افسوس رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں جب ریٹائر ہوجاؤں گا تو مجھے افسوس ہوگا کہ اچھا بلے باز ہونے کے باوجود مجھے بولر نہیں بننا چاہیے تھا۔ میں نے ہمیشہ اس چیز کا مقابلہ کیا ہے، بلے باز اور بولر کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ پیمانہ ہمیشہ دونوں کے لیے بہت مختلف رہا ہے۔