TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –7 JUNE
پٹنہ ، 07 جون: اڈیشہ کے بالاسور میں ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی لاشوں کی شناخت میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ بہار میں اس طرح کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں جس میں لوگ فرضی طریقے سے معاوضہ کی رقم حاصل کرنے کے لئے دوسروں کی لاشوں کوبھی اپنا بتا نے میں نہیں ہچک رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس ہولناک حادثے میں بہار کے اب تک 39 لوگوں کی موت کی تصدیق محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے کی ہے۔ ٹرین حادثے کے بعد معاوضے کے لالچ میں لوگ فرضی دستاویزات کے ساتھ اجنبیوں کی لاشیں حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹرین حادثہ میں لاپتہ اکھلیش رائے کے بہنوئی سونو رائے نے کلنگا اسپتال سے فون پر بتایا کہ جب معاملہ انتظامیہ کی پکڑ میں آیا تو لاش دینے میں تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ ایک مقامی خاتون نے لاش کو دیکھنے کے بعد فوٹو کھینچی اور فرضی آدھار کارڈ تیار کرا کر لاش کو اپنا بتا کر روتے ہوئے اسپتال پہنچی لیکن لاش دینے سے پہلے اس جعل سازی کا انکشاف ہوگیا اور پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا۔
مظفر پور ضلع کے سکرا بلاک کے کٹیسر پنچایت کے رام نگر گاوں کے برج نندن رائے کا بیٹا منجے رائے بھی لاپتہ ہے جس لاش کی شناخت بھائی سنجے رائے نے منجے کے طور پر کی تھی۔ اس پر مدھوبنی کے لوگوں نے بھی دعویٰ کیا ہے۔ تمام ثبوت پیش کرنے کے بعد لواحقین لاش کو مدھوبنی لے گئے۔ لاپتہ منجے کے بھائی اور والد منگل کے روز اڈیشہ سے گھر واپس آئے ہیں۔
اس حادثے میں بہار کے مظفر پور ضلع کے رہنے والے اکھلیش رائے کی موت ہو گئی۔ اب تک بہار کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے تین افراد نے لاش کا دعویٰ کیا ہے جس کی شناخت اس کے والد نے تصویر سے کی تھی۔ ایسے میں اڈیشہ کے مقامی انتظامیہ نے کسی بھی خاندان کو لاش دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اب ڈی این اے ٹیسٹ سے پتہ چلے گا کہ لاش کس کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس ٹرین حادثے میں بہار کے 39 لوگوں کی جان چلی گئی ہے، جب کہ 45 زخمی ہیں۔ 21 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ مرنے والوں میں مدھوبنی کے 7، مشرقی چمپارن کے 5، مظفر پور کے 3، نوادہ-مغربی چمپارن کے دو دو افراد شامل ہیں۔ زخمیوں میں سب سے زیادہ 22 مظفر پور ضلع کے رہنے والے ہیں۔