TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -13 JUNE
نئی دہلی ، 13جون:وراٹ کوہلی، چیتیشور پجارا اور روہت شرما ان تجربہ کھلاڑیوں نے ہندوستانی کرکٹ شائقین کو مسکرانے کے کئی مواقع دیئے ہیں، لیکن اپنے کریئر کے آخری مرحلے پر کھڑے ان تینوں کھلاڑیوں کے بعد ٹسٹ بلے بازی میں ہندوستان کتنا تیار ہے، یہ اپنے آپ میں ایک سوال ہے۔ آسٹریلیا کیخلاف ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ فائنل میں ملی ذلت آمیز ہار نے ہندوستانی کرکٹ کے حکام کو حل نکالنے کے لیے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ پجارا کی ناکامی ہندوستان کو بری طرح محسوس ہوئی ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے سسیکس کے لیے کاونٹی کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے سب سے زیادہ تیار تھے۔پجارا نے 2021 میں آسٹریلیا کیخلاف سڈنی میں 77 رنز کی یادگار اننگز کھیلی تھی۔ چٹوگرام میں بنگلہ دیش کے خلاف 90 اور 102 کے علاوہ وہ 2022 میں کچھ خاص نہیں کر سکے۔ انہوں نے 2021۔ 2023 ڈبلیو ٹی سی میں، 17 ٹیسٹ کھیلتے ہوئے، 32 کی اوسط سے 928 رنز بنائے، جس میں واحد سنچری بھی شامل تھی۔ اب تیسرے نمبر پر اگلا کون؟ ہندستان نے 2022 کے اوائل میں سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں تین اننگز میں ہنوما وہاری کو آزمایا جنہوں نے نصف سنچری بنانے کی کوشش کی۔ پجارا کی واپسی کے بعد ان کا پتہ بھی کٹ گیا۔ہندوستان کی پریشانی چوتھے نمبر کی بھی ہے جہاں سوپر اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی اترتے ہیں۔ کوہلی نے پچھلے کچھ سال میں جس طرح گیندبازوں پر دباؤ بنایا ہے، وہ بہت کم بلے باز ہی کرپائے ہیں لیکن اصلیت یہ بھی ہے کہ ٹسٹ کرکٹ میں انہیں پریشانی آئی ہے۔ موجودہ ڈبلیو ٹی سی راونڈ میں کوہلی نے 17 ٹسٹ میں 32.13 کی اوسط سے 932 رن بنائے ہیں جس میں ایک سنچری شامل ہے جو احمدآباد کی فلیٹ پچ پر بنایا گیا تھا۔