TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –18 JULY
کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں منعقد اپوزیشن اتحاد کے دوسرے دور کی دو روزہ میٹنگ انتہائی خوشگوار ماحول میں کل اختتام پذیر ہو گئی۔اس میٹنگ کی چند خاص باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اپوزیشن اتحاد کا نام اب ’’یو پی اے‘‘ نہیں ہوگا۔اب اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے نام سے جانا جائے گا۔ اپوزیشن کی میٹنگ کے آخری دن کل اس نام پر اتفاق رائے سے مہر لگ گئی۔ یہ نام’’ این ڈی اے‘‘ سے نہ صرف ملتا جلتا ہے بلکہ معنویت کے اعتبار سے کافی دلپذیر بھی ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ اب ’’این ڈی اے ‘‘ کے مقابلے میں ’’انڈیا‘‘ کھڑا ہوگا۔ لفظ انڈیا میں جو حروف شامل ہیں ، ان کومخفف کے طور پر لیا گیا ہے۔ان الفاظ کی وضاحت کچھ اس طرح سے کی گئی ہے : آئی سے انکلوسیو، این سے نیشنل، ڈی سے ڈیولپمنٹ اور اے سے الائنس۔یعنی’’ انکلوسیو نیشنل ڈیولپمنٹ الائنس‘‘۔
کل میٹنگ کے آخر میں جیسے ہی یہ نام فائنل ہوا، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ٹویٹ کی ہوڑ لگ گئی ۔ممتا بنرجی کی پارٹی کے ایم پی نے ٹویٹ کیا، ’چک دے انڈیا‘، جب کہ ادھو ٹھاکرے کی پارٹی نے ٹویٹ کیا،’’ اس بار 2024 میں، ٹیم انڈیا بمقابلہ ٹیم این ڈی ہوگا،’اے چک دے انڈیا‘۔ میٹنگ سے پہلے اس بات پر ہر پہلو سے غور کیا گیا کہ اپوزیشن اتحاد کا نام یو پی اے (متحدہ ترقی پسند اتحاد) ہوگا یا کچھ اور۔ حالانکہ پٹنہ میٹنگ سے ہی ایسے اشارے مل رہے تھے کہ اپوزیشن اتحاد کا وہی پرانا نام ہوگا یا اس سے مختلف ہوگا۔ اپوزیشن کو اس نام کا خیال کہاں سے آیا ؟ اس سوال کا ایک جواب یہ سامنے آیا ہے کہ اس ’’انڈیا‘‘کے پیچھے راہل گاندھی کا خیال ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے جس طرح کے بیانات مسلسل سامنے آ رہے تھے، انھی سے اس کے اشارہ مل رہے تھے۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے ’’انڈیا‘‘ پر بہت فوکس کیا تھا۔راہل گاندھی کی قیادت میں کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا نکالی گئی تھی۔ اس دوران بتایا گیا کہ بھارت جوڑو یاترا نے بہت کچھ کیاہے۔ بھارت جوڑو یاترا نے تقریباً 3000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، یاترا کے دوران راہل گاندھی بار بار کہتے تھے کہ یہ یاترا بھارت جوڑنے کے لیے نکلی ہے۔ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے کے لئے نکلی ہے۔حالانکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ اس نام کے پیچھے صرف یہی ایک سوچ ہے۔ اس کے پیچھےایک اور سوچ ہے، جس کا اثر آج بنگلور کی میٹنگ میں صاف صاف نظر آیا۔
سیاسی مبصرین کی مانیں تو 2024 سے پہلے ’’انڈیا‘‘ اتحاد کو جو نام دیا گیا، اس کے پیچھے ایسی سوچ ہے، جس کی وجہ سے بی جے پی بھی کنفیوز ڈ ہو سکتی ہے۔ اس پر بنگلور میں منعقدہ میٹنگ میں بھی چرچا ہوا۔ جب ممتا بنرجی نے سوالیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی کیا اب ’’انڈیا‘‘ کو چیلنج کر ے گی؟ظاہر ہے آنے والے وقت میں یہ بات تمام اپوزیشن جماعتوں کا تکیہ کلام ہوگا۔ اپوزیشن کی طرف سے جو نام طے کیا گیا ہے، اس ہتھیار سے اب بی جے پی پر حملہ کرنا آسان ہوگا جبکہ بی جے پی کے لیے ’’انڈیا‘‘ کو نشانہ بنانا کافی مشکل ہوگا۔بنگلورو میٹنگ میں راہل گاندھی نے ایک بار پھر اپنے انداز میں مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بنایا او ر’’انڈیا‘‘ کو مرکز میں رکھا۔انھوں نے کہا ہم نے 26 جماعتوں کی میٹنگ کی، جس میں نئے اتحاد کو’’ انڈیا‘‘ کا نام دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کیا بی جے پی اب ’’انڈیا‘‘ کو چیلنج کر سکتی ہے؟ کیا ’’این ڈی اے‘‘ ’’انڈیا‘‘ کو چیلنج کر سکتا ہے؟ کیا کوئی ’’انڈیا‘‘ پر حملہ کر سکتا ہے؟ ہم ملک کے لیے ہیں۔ ہم دنیا کے لیے ہیں۔ ہم کسانوں کے لیے ہیں۔ سب کے لیے ہیں۔کوئی ہمیں پکڑ سکتا ہے تو پکڑ لے۔
قابل ذکر ہے کہ پچھلے مہینے کی 23 تاریخ کو جب پٹنہ میں پہلی بار اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہوئی تھی تو اس میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے اعتراض کیا گیا کہ انہیں اپوزیشن کہنا درست نہیں ہے۔ ’’حکمران جماعت‘‘ اور’’ اپوزیشن‘‘، یہ دونوں جمہوریت میں نئے الفاظ نہیں ہیں۔ حالانکہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اشارہ کہیں اور تھا۔ ان کی طرف سے کہا گیا کہ ہم باہر والے نہیں ہیں۔ پٹنہ اجلاس ہی میں اشارہ دیا گیا کہ آنے والے وقت میں نام مختلف ہوگا۔ سیاست میں ادراک بہت ضروری ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے نام کے ذریعے تاثر بدلنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے،لیکن یہ حقیقت ہے کہ اتنا بھر سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔جس طرح سے گزشتہ ماہ کی میٹنگ میں جو تھوڑی بہت کمیاں نظر آئی تھیں، انھیں بنگلورو کی میٹنگ میں دور کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔دہلی کے وزیر اعلیٰ کی شرطوں کو تسلیم کرتے ہوئے کانگریس نے اپنی کشادہ دلی کا جو ثبوت دیا ہے، اس کا تاثر کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ میٹنگ کے بعد منعقد اپوزیشن جماعتوںنے مشترکہ پریس کانفرنس میں یو ں تو سبھی اہم لیڈروں نے اپنے جوش اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا لیکن اس میںکانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے جو باتیں کہیںانھیں کافی اہم مانا جا رہا ہے۔انھوں نے میٹنگ کے حوالے سے کہا ’’جمہوریت اور ملک کو بچانے کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔ سب نے اتحاد کے لیے ایک نام پر اتفاق کیا ہے۔ ’’یو پی اے‘‘ کا نام بدل کر’’ انڈیا ‘‘کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اپوزیشن اتحاد کی اگلی میٹنگ ممبئی میں ہوگی۔ 11 ارکان پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ انتخابات کے لیے دہلی میں ایک نیا سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔ان کے اس اعلان کے بعد ایک بار پھر ’’چک دے انڈیا‘‘ کی آواز سوشل میڈیامیں بھی گونجنے لگی۔
*******************