TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -01 JULY
لاہور : ۔یکم جولائی:صوبہ پنجا ب کے کچھ علاقوں میں احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کو قربانی کرنے سے منع کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر انہوں نے قربانی کی تو ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائیگا۔ مقامی پولیس نے کہا کہ امیر پارک میں رہنے والے لوگوں نے پولیس میں شکایت درج کی اور اعتراض کیا کہ احمدیہ فرقہ کے لوگوں کو قربانی کرنے سے روکا جائے ورنہ ماحول بگڑ جائیگا۔ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک پراپرٹی ڈیلر نے کہا کہ حالات کی نازکی سمجھ کر اس نے اپنا بکرا نارواول بھیجا جہاں احمدیہ فرقہ گاوں میں اکثریت سے رہتے ہیں۔ اور وہا ں کے مقامی لوگوں کو بھی قربانی کرنے پر اعتراض نہیں ہے۔ اسی طرح گجراوالا کے ایک احمدی نے کہا جب وہ دو بکرے لیکر گھر پہنچا تو علاقہ کے لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور اس کے بعد انہیں صلاح دی گئی کہ ان کے لئے بہتر یہ ہی ہوگا کہ قربانی نہ کریں ورنہ پولیس پکڑ لے گی۔ اور اس کے بعد قربانی کے جانورں کے اپنے برادر نسبعی گھر سیال کوٹ بھیج دیا۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی محکمہ داخلہ نے تمام ڈسٹرکٹ عہدیداروں اور پولیس افسران کو ہدایت دی کہ لا اینڈ آرڈر کے پیش نظر احمدیہ فرقہ کے لوگوں کو قربانی کرنے سے منع کریں ۔ یہ مذہبی کشیدگی پیدا کر رہے گا اور حکومت چاہتی ہے کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش نہ آئے۔ اسی لیے تمام پولیس تھانوں پر احمدیہ فرقہ کے سرکردہ لوگوں کو بلایا گیااور ان کو صلاح دی گئی کہ وہ قربانی سے پرہیز کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائیگی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر چلائی گئی کہ اگر کسی احمدیہ فرقہ کے فرد کو قربانی کا گوشت بانٹتے ہوئے دیکھا گیا تو اس کو پولیس کے حوالے کیا جائیگا۔ احمدیہ فرقہ کے ترجمان عامر محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پچھلے سال ایک تاریخی فیصلہ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ احمدی اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر مذہبی فرائض انجام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا اس کے باوجود احمدیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اور شہروں اور قصبوں میں ان کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے۔