اسرائیل جنین کیمپ میں آپریشن کے دوسرے مرحلے کے لیے تیار

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -04 JULY      

اسرائیل،04جولائی:اتوار کی رات اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے اثرات کے بعد غرب اردن کے شمالی شہر جنین کے مہاجر کیمپ میں اب بھی کشیدگی اور غم وغصے کی فضا پائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائی میں کم سے کم آٹھ فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔تل ابیب نے پیر کے روز تصدیق کی کہ تمام تر ثالثی کے باوجود یہ عمل جاری ہے اور کسی ٹائم ٹیبل کے مطابق نہیں ہے۔ جب تک اسرائیل کو جنین کیمپ سے خطرات لاحق رہتے ہیں آپریشن جاری رہے گا۔ العربیہ اور اس کے برادر ٹی وی چینل الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج آپریشن کے دوسرے مرحلے کی تیاری کر رہی ہے۔مقامی اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے تصدیق کی کہ جنین کیمپ پر دھاوے کا دوسرا مرحلہ چند گھنٹوں میں شروع ہوگا۔اسرائیلی فوج کی کارروائی کے وقت کیمپ کے اندر دھماکہ خیز آلات کی وجہ سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔دوسری طرف فلسطینی مذہبی اور سماجی تنظیموں نے اس آپریشن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آج فلسطین بھر بالخصوص غرب اردن میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔کل سوموار کے روز کیے جانے والے فوجی آپریشن میں قابض فوج کے زمینی دستوں کو فضائی کی مدد حاصل تھی اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جنین کیمپ میں فلسطینیوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب کیمپ میں اسرائیل کی مختلف سکیورٹی سروسز کام کر رہی ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ مہینوں میں جنین “دہشت گردوں” کی پناہ گاہ میں تبدیل ہو گیا ہے اور ان کی افواج آج اس معاملے سے نمٹ رہی ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی افواج ان تمام علاقوں کو نشانہ بناتی ہیں جو ان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ تمام محاذوں پر چوکس ہیں اور کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔ ان تمام علاقوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں سے اسرائیل کی سلامتی کو خطرہ ہے۔دریں اثنا، اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے جنین اور اس کے کیمپ میں شروع کیا جانے والا آپریشن اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا۔ اس آپریشن کا مقصد فلسطینی دھڑوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہے جن کا مرکز جنین میں ہے۔