انھیںایک دوسرے پر گولیاں برسانے سے فرصت نہیں

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –16 JULY      

دہلی میں جمنا کے پانی کی سطح اب آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ کچھ علاقوں سے پانی نکال لیا گیا ہے۔ جب کہ کئی علاقے ایسے ہیں ،جہاں پانی اب بھی کافی بھرا ہوا ہے۔ ان علاقوں سے پانی نکالنے میں بھی کئی دن لگ سکتے ہیں۔ دہلی حکومت، این ڈی آر ایف سمیت پولس انتظامیہ بھی دہلی میں حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن، اس دوران چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ 15 جولائی کی شام میں موسم نے ایک بار پھر کروٹ لی تھی اور دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں جم کر بارش ہوئی اور اس بارش نےدہلی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرگئی۔نتیجتاََ یمنا خطرے کے نشان سے کل شام تک اوپر بہہ رہی تھی۔ اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش سمیت دہلی کی پڑوسی ریاستوں میں اگلے ایک ہفتے تک بارش کا الرٹ ہے۔
  حکومت دہلی کی تمامتر کوششوں کے باوجود کئی علاقوں میں شدید بارش کے بعد پانی کی نکاسی کو لے کر ایک چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔  نوئیڈا اور فرید آباد کی طرح این سی آر میں ابھی بارش سے نجات کا امکان نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں دہلی این سی آر میں بارش متوقع ہے۔ دہلی کے محکمہ موسمیات نے بھی اس سلسلے میں الرٹ جاری کیا ہے۔ 16 سے 21 جولائی تک موسم کی بات کریں تو گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کے امکانات ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دن پانی سے بھری دہلی کے لیے مزید مشکل ہونے والے ہیں۔دہلی کے آس پاس کی ریاستوں کی بات کریں تو اتراکھنڈ،ہماچل پردیش، ہریانہ، پنجاب، اتر پردیش کے کئی علاقوں میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں 16 سے 19 جولائی تک پیلا اور اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس دوران پنجاب اور ہریانہ میں بھی بارش کا یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان اور اتر پردیش کے کئی علاقوں میں بھی موسلادھار بارش کا اندیشہ ہے۔  اس کی وجہ سے دہلی کا چیلنج مزید بڑھ سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی4۔3دنوں سے زیادہ عرصے سے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر جگہ جمع پانی دہلی کے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اگرچہ 15 جولائی سے کچھ علاقوں سے پانی نکالا جا رہا ہے، لیکن کئی علاقے ایسے ہیں، جہاں سے پانی نکالنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی سے عوام میں شدید غم و غصہ ہے۔ ٹریفک کا بھی مسئلہ ہے۔ لوگوں کو روزمرہ کے سفر میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس نے کئی مقامات پر روٹ ڈائیورشن بھی کیا ہے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
  ماہرین کے مطابق جمنا کے پانی کی سطح آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ پانی کی سطح جو پہلے208.71 میٹر سے تجاوز کر گئی تھی اب 207.43 میٹر پر آ گئی ہے۔ دہلی کے پرنسپل سکریٹری ریونیو اور ڈویژنل کمشنر اشونی کمار کا کہنا ہے کہ اب پانی کم ہو رہا ہے۔ آج اور کل پانی کم ہوتا رہے گاکیونکہ بارش کا ایسا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لیے پانی میں کمی کا رجحان برقرار رہے گا۔ جمنا کی پانی کی سطح کل صبح 11 بجے 207.43 میٹر تھی اورکل رات 11 بجے یہ نیچے 206.72 میٹر پر آگئی تھی۔ حالانکہ یمنا کی پانی کی سطح اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو بھی دہلی کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے اتنا پانی جمع ہوگیا کہ جگہ جگہ ٹریفک جام ہوگیا۔ شہر کے کئی علاقے پہلے ہی گزشتہ چند دنوں سے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ قومی راجدھانی دہلی میں جمنا کا پانی پھیل جانے کی وجہ دہلی کے تمام نشیبی علاقے زیر آب ہیں۔ بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں پارہ (زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت) ایک ڈگری گر کر 34.6 ڈگری سیلسیس پر پہنچ گیا ہے، لیکن سیلاب کے پانی کی شدت کی وجہ سے متاثرین کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔
ویسے یہ اطمینان کی بات ہے کہ جمنا ندی کے پانی کی سطح میں کمی آنے کے بعد شمالی دہلی کے لوگوں نے اپنی دکانوں اور گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ یہ لوگ سیلاب کی وجہ سے اپنے گھروں اور دکانوں کو چھوڑ کر محفوظ مقام پر چلے گئے تھے۔ کشمیری گیٹ کے قریب خانقاہ بازار میں کچھ لوگ اپنی دکانوں کا جائزہ لینے کے لیے واپس آئے، جہاں گزشتہ ہفتے شدید بارشوں سے سیلاب آگیا اور متاثرین نے امدادی کیمپوں میں پناہ لی۔ ابھی بھی حالات یہ ہیں کہ راج گھاٹ ڈوب گیا ہے۔ لال قلعہ میں بھی سیلاب کا پانی ہے۔ اس کے باوجود دہلی میں سیاسی دنگل جاری ہے۔ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا موقع نہیں گنوا رہے ہیں۔ دہلی کی اس تباہی میں بھی سیاست کو ایک موقع مل گیا ہے۔ پانی میں پھنسنے ہوئے لوگ پریشان ہیں، لیکن اسی میں ساحل پر کھڑی دو اہم سیاسی جماعتیں ایسی ہیں  کہ،جنھیں ایک دوسرے پر گولیاں برسانے سے فرصت نہیں مل رہی ہے۔