!…….اور اپوزیشن دیکھتی رہ جائے گی

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –25 JULY    

 منی پور تشدد کو لے کر اپوزیشن مودی حکومت کو گھیرنے میں لگی ہوئی ہے۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میںمنی پور کو لے کر حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان زبردست رسہ کشی جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں منی پور پر بحث کے مطالبہ پر اٹل ہیں۔ اس سب کے درمیان راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو حکومت پر سخت نشانہ لگایا ۔ کھڑگے نے صاف کہا کہ منی پور جل رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی ’’انڈیا ‘‘ کا موازنہ ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ سے کرنے میں لگے ہیں۔ دراصل منی پور میں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے تشدد جاری ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل منی پور میں دو خواتین کو برہنہ کرکے، انھیں سرعام گھمانے کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ اس کے بعد پورا ملک غصے سے کانپ اٹھا۔ اس کی دھمک اب پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ اپوزیشن کے ذریعہ منی پور تشدد پرمسلسل وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔حالانکہ حکومت کا اصرار ہے کہ شمال مشرقی ریاست کے ساتھ ساتھ راجستھان اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ اس رسہ کشی کی وجہ سےراجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ایوانوں کی کارروائیاں کل بھی متاثر رہیں۔
اِدھر اپوزیشن اتحاد’’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس‘‘ (انڈیا) میں شامل جماعتوں کی ایک میٹنگ میں بھی اس ایشو پر تبادلہ ٔخیالات کیا گیا۔میٹنگ کے بعد، ملکارجن کھڑگے نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا، ’’وزیر اعظم کو منی پور میں 83 دنوں سے جاری تشدد پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بیان دینے کی ضرورت ہے۔منی پور سے جڑے انتہائی خوفناک واقعات سے متعلق خبریں آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔’’انڈیا‘‘نے منی پور تشدد پر مودی حکومت سے جواب مانگا ہے۔ یہ صورتحال ہماری حساس سرحدی ریاستوں کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ وزیر اعظم مودی اپنا تکبر چھوڑ دیں اور منی پور پر ملک کو اعتماد میں لیں۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم مودی نے بھی منگل کے روزاپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کو بے سمت قرار دیتے ہوئےاسے ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ اور ’’انڈین مجاہدین ‘‘ جیسے نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ صرف ملک کا نام استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہ بات بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پی ایم مودی کے اس بیان پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی، آپ کانگریس کی مخالفت میں اتنے اندھے ہو گئے ہیں کہ انڈیا سے نفرت کرنے لگے ہیں۔
ادھرمعلوم ہوا ہے کہ کانگریس لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد ( No Confidence Motion ) بھی لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے لیے کانگریس دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کر رہی ہے۔حالانکہ سیاسی مبصرین م کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میںمودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتمادلانا قطعی مناسب نہیں ہوگا۔اگر حکومت نے ایوان میں اس بار بھی اپنی اکثریت ثابت کردی تو ایک عرصے تک گھوم گھوم کر اپنی پیٹھ تھپتھپاتی رہے گی۔یہاں یہ بات جان لینی ضروری ہے کہ جب لوک سبھا میں اپوزیشن کی کسی بھی پارٹی کو لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے یا حکومت نے ایوان کا اعتماد کھو دیا ہے، تو ایسی صورت میں وہ تحریک عدم اعتماد لاتی ہے۔ اس کا ذکر آئین کے آرٹیکل 75 میںکیاگیا ہے۔ ایوان میں اکثریت نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم سمیت تمام وزراءکو مستعفی ہونا پڑتا ہے۔ جب ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک لائی جاتی ہے تو حکمران جماعت کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کے پاس اکثریت ہے۔ اس میں صرف لوک سبھا ممبران ہی ووٹنگ کے اہل ہیں، راجیہ سبھا ممبران ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لے سکتے۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ پر حکومت اپنے ارکان پارلیمنٹ کو وہپ جاری کر سکتی ہے، جس کے بعد حمایت نہ کرنے والے رکن اسمبلی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایوان میں موجودارکان میں سے نصف سے زیادہ ارکان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیں تو حکومت گر جاتی ہے۔
لوک سبھا میں اب تک 27 بار تحریک عدم اعتماد آئی ہے۔ آخری بار جولائی 2018 میں اپوزیشن نے خود مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی تھی جو بری طرح ناکام رہی تھی۔ 11 گھنٹے کی بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی اور مودی حکومت نے آسانی سے اپنی اکثریت ثابت کر دی۔تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں صرف 126 ووٹ ڈالے گئے، جب کہ 325 ارکان اسمبلی نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ منی پور معاملے پر جاری تعطل کے بعد اگر ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو ان کی تعداد بڑھ کر 28 ہو جائے گی، لیکن زیادہ امکان ہے کہ اس بار بھی وہی ہوگا جو ،جولائی 2018 میں ہوا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوک سبھا میں بی جے پی کے ابھی 301 ممبران پارلیمنٹ ہیں اور پورے این ڈی اے کے 333 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ جبکہ اس وقت، پوری اپوزیشن کے پاس کل 142 لوک سبھا ممبر ہیں۔ اس میں سے زیادہ سے زیادہ 50 ایم پی صرف کانگریس کے ہیں۔ایسے میں حکومت تحریک عدم اعتماد کو آسانی سے خارج کر دیگی اور اپوزیشن دیکھتی رہ جائے گی ۔
******************