TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -05 JULY
مہاراشٹر کی سیاست میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلی آتی جارہی ہے۔ شرد پوار کے بھتیجے اور ان کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے باغی لیڈر اجیت پوار گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شرد پوار کو این سی پی کے قومی صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیاہے۔یہ دعویٰ اس تناظر میں کیا گیا ہے کہ اجیت پوار کے مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی زیرقیادت حکومت میں شامل ہونے کے بعد، ان کے اور شرد پوار کے درمیان نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) پر دعویٰ کو لے کر لڑائی تیز ہوگئی ہے۔ اس ایپی سوڈ میں دونوں گروپوں نے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بدھ کو الگ الگ میٹنگیں بلائی تھیں۔این سی پی کے شرد پوارگروپ نے دوپہر ایک بجے جنوبی ممبئی کے یشونت راؤ چوان سینٹر میں پارٹی میٹنگ بلائی تھی۔ دوسری طرف اجیت پوار نے صبح گیارہ بجے مضافاتی باندرہ میں ممبئی ایجوکیشن ٹرسٹ کے احاطے میں میٹنگ بلائی تھی۔ دونوں گروپ کے ذریعہ کئے گئے طاقت کے مظاہرہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تعداد کے اعتبار سے اجیت پوار کا پلڑا بھاری ہے، لیکن مہاراشٹر کی زمینی حقیقت سے واقف لوگوں کا ماننا ہے کہ شرد پوار کی پکڑ ابھی بھی مہاراشٹر کے عوام پر ہے۔عوام کی ایک بڑی تعدادشرد پوار کے ساتھ ہے۔ان کے اور ان کی پارٹی کے ساتھ جن لوگوں نے دغابازی کی ہے، وہ ابھی سے عوام کے نشانے پر ہیں۔ مہاراشٹر کی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کا بھی یہ ماننا ہے کہ مہاراشٹر میں جمہوری مزاج کا قتل ہوا ہے اور اس قتل میں کس جماعت کا ہاتھ ہے ، یہ دنیا کے سامنے ہے۔
288 رکنی مہاراشٹرا اسمبلی میں این سی پی کے 53 ایم ایل اے ہیں اور اجیت پوار گروپ کو کم از کم 36 ایم ایل ایز کی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ دل بدل قانون کے تحت نااہلی سے بچا جا سکے۔ اجیت پوار کے دھڑے نے 40 ایم ایل ایز کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری طرف شرد پوار کے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت میں شامل اجیت پوار سمیت صرف 9 ایم ایل ایز نے اپنا رخ بدل لیا ہے اور باقی شرد پوار کے ساتھ ہیں۔ ایم ایل اے سروج اہیرے، پراجکتا تانپورے اور سنیل سی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اجیت پوار کے ساتھ ہیں، لیکن انہوں نے شرد پوار سے ملاقات کرکےان سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے۔
اجیت پوار گروپ اور شرد پوار گروپ کے الگ الگ دعوے کے درمیان مہاراشٹر کی موجودہ سیاست پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ شرد پوار اور اجیت پوار دونوں کے لیے بدھ کا دن بہت اہم تھا۔ہر کوئی دعویٰ کر رہا تھا کہ ان کے پاس سب سے زیادہ ایم ایل اے ہیں۔ دونوں طرف سے طاقت کا مظاہرہ کرنے والی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اجیت پوار کے ساتھ میٹنگ میں 32 ایم ایل اے موجودتھے جبکہ 16 ایم ایل اے وائی بی چوہان سنٹر میں شرد پوار کیمپ میں موجود تھے۔اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر کی سیاسی بساط پر فی الحال شرد پوار کی کیا پوزیشن ہے۔ لہٰذا، اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آخرکار، 24 سال بعد، بھتیجے اجیت پوار نے اپنے چچا سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو چھین لیا ہے۔ بلا شبہہ بدھ کے روز ہوئے طاقت کے مظاہرہ کے دوران نمبر گیم میں اجیت نے اپنے چچا پر سبقت حاصل کر لی تھی۔صرف اتنا ہی نہیں چھگن بھجبل، جو اس وقت ڈائس پر موجود تھے، نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس کئی ایم ایل اے کی طرف سے دیے گئے حلف نامے ہیں جنہوں نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی ہے۔ انہوں نے تمام باغی ایم ایل اے کو یقین دلایا کہ انہیں کسی بھی اصول کی بنیاد پر نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اجیت پوار نے فیصلے سے قبل قانونی عمل مکمل کر لیا تھا۔ اپنی تقریر میں 45 سال پرانے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے چھگن بھجبل نے شرد پوار کو یاد دلایا کہ اگر آپ وسنت دادا پاٹل کو چھوڑ کر آئے تھے تو ظاہر ہے انہیں بھی برا لگا ہوگا۔
اجیت پوار کی میٹنگ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ شرد پوار کے ساتھ رہ کر اجیت پوار کو حد سے زیادہ توہین کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیر کے طور پر حلف لینے والے این سی پی لیڈر دھننجے منڈے نے اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجیت پوار کی اب تک سب سے زیادہ توہین کی گئی ہے،لیکن وہ اس ذلت کو برداشت کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے سائے کو بھی اس ذلت کا احساس نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے شرد پوار صاحب کے لیے سب کچھ جھیلا۔میٹنگ میں اجیت پوار کے دونوں بیٹے پارتھ پوار اور جئے پوار بھی موجودتھے۔ اجیت پوار نے کہا کہ اب تک ہم سب شرد پوار کے سائے میں تھے، لیکن ہمارے اپنے ذاتی خیالات بھی ہیں۔ ہمیں شیو رائی کے خواب کو پورا کرنا ہے۔اس موقع سے شرد پوار پر طنز کرتے ہوئے اجیت پوار نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی ایک عمر ہوتی ہے چاہے وہ سرکاری نوکری ہو یا سیاست۔ آپ بھی رہنمائی فرمائیں اور دعائیںدیں۔ اجیت پوار کا کہنا تھا کہ 2024 میں صرف نریندر مودی ہی اقتدار میں آئیں گے۔ جب ملک میں مودی کا کوئی متبادل نہیں ہے تو پھر ان کا ساتھ دینے میں حرج ہی کیا ہے۔ان کے لہجے سے یہ صاف لگ رہا تھا کہ این سی پی پر انھوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ ظاہر ہے اب دونوں گروپ کے درمیان انتخابی نشان کے لئے جنگ ہوگی۔ دیکھنا ہے کہ اس پر الکشن کمیشن کیا کرتا ہے۔بال تو اب الکشن کمیشن کے ہی پا لے میں ہے۔