TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –25 JULY
واشنگٹن،25جولائی : انتونیو کی عمر 14 برس ہے اور پیدائش کے وقت انہیں نابینا قرار دیا گیا تھا۔ انتونیو ’ ڈسٹروفک ایپیڈر مولائسز بلوسا‘ کی ایک غیر معمولی جینیاتی حالت کے ساتھ پیدا ہوئے تھے جس کی وجہ سے جسم اور آنکھوں کے اندر چھالے ہوجاتے ہیں۔انتونیو کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب وہ دنیا کی پہلی ٹاپیکل جین تھیراپی کی جانچ کے لیے ایک کلینکل ٹرائل میں شامل ہوئے اور اس دوران ان کی جلد میں نمایاں بہتری آئی۔اس سے ڈاکٹر الفانسو سبیٹر کو اسی تھیراپی کو انتونیو کی آنکھوں کے لییاستعمال کرنے کا خیال آیا اور اس علاج نے ان کی بینائی بحال کر دی۔ڈاکٹر سبیٹر امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں آئی انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ہیں۔انہوں نے نہ صرف انتونیو کی مدد کی بلکہ آنکھوں کیاسی طرح کے علاج کے دروازے بھی کھول دیے جو ممکنہ طور پر عام لوگوں سمیت لاکھوں انسانوں کی آنکھوں کی دیگر بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں۔سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں ڈاکٹر الفانسو سبیٹر انتونیو کے ایک اپائنٹمنٹ کے دوران ان کی جینیاتی بیماری کی وضاحت بھی کی جس میں انتونیو کی جلد اور آنکھیں دونوں شامل ہیں۔انتونیو کی ماں یونی کارواجل بھی ویڈیو میں موجود ہیں۔ یہ خاندان 2012 میں کیوبا سے ایک خصوصی ویزے پر امریکہ آیا تھا جس میں انتونیو کو علاج کی اجازت دی گئی تھی۔انتونیو کی آنکھوں سے’اسکار ٹشو ‘کو ہٹانے کے لیے سرجری کی گئی لیکن یہ دوبارہ بڑھ گیا۔ انتونیو کی بصارت بدتر ہوتی چلی گئی۔ آخرکار اس قدر بگڑ گئی کہ وہ اپنے ارد گرد چلنے میں محفوظ محسوس نہیں کرتے تھے۔لیکن ڈاکٹر سیبٹر نے ہمت نہیں ہاری۔انہوں نے اس بچے کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ “میں کوئی حل تلاش کروں گا۔ مجھے بس کچھ وقت چاہیے۔ میں اس پر کام کر رہا ہوں۔”انتونیو جب بھی باہر نکلتے ہیں تو انہیں اپنے بازوؤں، ہاتھوں، ٹانگوں اور پیروں کو ڈھانپنے والا ایک محفوظ لباس پہننا پڑتا ہے۔اس حالت میں مبتلا دوسرے بچوں کی طرح ان کی جلد اتنی نازک ہے کہ ایک معمولی لمس بھی اسے زخمی کر سکتا ہے۔ اسی لیے ان بچوں کو “تتلی جیسیبچے” بھی کہا جاتا ہے۔انتونیو جس بیماری کا شکار ہیں اس سے دنیا بھر میں لگ بھگ تین ہزار افراد متاثر ہیں۔ایک موقع پرانتونیو کی ماں کارواجل نے ڈاکٹر سبیٹر کو انتونیو کی جلد کے زخموں کے لیے تجرباتی’ جین تھیراپی جیل‘ کے بارے میں بتایا۔انہوں نے ادویات بنانے والی کمپنی کرسٹل بائیوٹیک سے یہ جاننے کیلیے رابطہ کیا کہ آیا اس بچے کی آنکھوں کے لییکچھ بہتر کیا جاسکتا ہے۔پینسلوینیا کے شہر پٹسبرگ میں قائم کمپنی کی شریک بانی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی صدر سوما کرشنن نے کہا کہ یہ خیال بامعنی ہے اور اسے آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔’’انتونیو جیسی حالت اس جین میں تغیرات کی وجہ سے ہوتی ہے جو کولیجن سیون نامی پروٹین پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے، جو جلد اور قرنیہ دونوں کو ایک ساتھ رکھتا ہے۔‘‘یہ علاج جس کا نام Vyjuvek ہیاس جین کی کارگرنقول فراہم کرنے کے لیے ایک غیر فعال ہارپس سیمپلیکس وائرس کا استعمال کرکے کیا جاتا ہے۔آئی ڈراپس میں جلد کے لیے استعمال ہونے والے مائع کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔