TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -02 JULY
رکسول 2/جولائی ( محمد سیف اللہ )ہند نیپال کی سرحد پر واقع آداپور بلاک کے خیروا میں خاتون ڈاکٹر رضوانہ پروین نے جس فکر مندی کے ساتھ” چمپار ن میڈیکل سینٹر” کے نام سے اپنے ہاسپیٹل کا افتتاح کیا اس سے سرحدی علاقہ کے لوگوں خاص کر خواتین طبقہ کو کافی سہولیات حاصل ہوں اور انہیں ایسی مشکلات سے ابھرنے کا موقع ملے گا جن سے وہ ابھی تک دو چار تھے یہ باتیں آج چمپارن میڈیکل سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے ریاستی وزیر قانون جناب ڈاکٹر شمیم احمد نے کہی جب کہ اس موقع پر سیکڑوں کی تعداد میں سرحدی خطہ سے جڑے لوگ موجود رہے،
وزیر قانون ڈاکٹر شمیم احمد نے کہا کہ اس علاقے میں کوئی خاتوں ڈاکٹر نہیں ہونے سے خوائیں کو علاج کے لئے دور دراز علاقوں میں جانا پڑتا تھا لیکن اب شاید انہیں اس تکلیف دہ مرحلے سے نہیں گزرنا پڑے گا کیوں کہ یہ کمی آج ڈاکٹر رضوانہ پروین کی محنت سے پوری ہو گئی ہے،اس موقع سے چمپارن میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران نے کہا کہ میری زندگی کا مقصد سماج کے غریب طبقہ کے بنیادی مسائل کا حل تلاش کرکے انہیں خوشحال زندگی فراہم کرنا اور ان کے لئے علاج ومعالجے کے مرحلے کو آسان بنانا ہے تاکہ وہ ان مشکلات سے خود کو بچا سکیں جن کے سبب نہ جانے ہر سال سماج میں کتنے لوگ دم توڑ دیتے ہیں،انہوں نے کہا کہ آج بھلے ہی ایک بڑے طبقے نے ڈاکٹری کے عمل کو تجارت کے راستے پر ڈال دیا ہو مگر میں یقین دلاتا ہوں علاج سے جڑا میرا سارا سسٹم اور بذات خود میں عوام کی فلاح اور انہیں صحت کے بہترین مواقع فراہم کرانے کے لئے کوشاں رہونگا ،انہوں نے کہا ڈاکٹری کے پیشے سے جڑے ایک بڑے طبقے کا مزاج تخریبی ہوچکا ہے جس سے سماج کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ اس ذمہ دار پیشے کے تئیں عوام کا اعتماد بحال ہو سکے،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں پرعوام جس طرح اعتماد کرکے ان سے اپنی بہتر زندگی کی بھیک مانگتے ہیں۔
اس کا پاس رکھتے ہوئے اپنے پیشے کی پاسداری کرنا اگر ہماری بنیادی فکرمندی کا حصہ بن جائے تو اس سے انسانی برادری کو قابل اطمیان ماحول میں سانس لینے اور علاج کے لئے دردر بھٹکنے سے بچایا جا سکتا ہے ،
انہوں نے اس موقع پر اپنی پوری ٹیم کا نہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ اس مہذب مشن میں جو لوگ شامل ہیں وہ سب میرے لئے قابل قدر ہیں بلکہ مجھے اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ ان کے سہارے اور پیش رفتوں کے بغیر کسی خوشگوار نتیجے تک پہنچنے کا سپنا شاید ادھورا رہ جائے،موقع پر موجود لوگوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عمران ایک سنجیدہ اور ذمہ دار شخص ہیں اور انہوں نے سماج کی بہتری کے لئے اس سمت میں جو قدم اٹھایا ہے اس کے آنے والے دنوں میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹری کا پیشہ بھلے ہی مہذب پیشہ کہلاتا ہو اور ڈاکٹروں کو لوگ مجازی خدا کا درجہ دیتے ہوں مگر اس شعبے میں لوٹ مار کا بازار جس تیزی کے ساتھ گرم ہے اور عوام کا خون چوسنے کی جو روایت چل پڑی ہے اس نے بہت سے لوگوں سے جینے کی امید چھین لی ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ ڈاکٹر عمران موجودہ مزاج سے الگ ہٹ کا خالص انسانی خدمت کے طور پر اپنے ہاسپیٹل کے شاندار مستقبل کے لئے جد وجہد کریں گے۔

