فرانس میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے جاری

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -01 JULY      

پیرس ،یکم جولائی:فرانس میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں جاری پرتشدد مظاہروں میں شاملایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ملک بھر میں چار روز سے مسلسل پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مظاہرین پر قابو پانے کے لیے 45 ہزار پولیس افسران کو مختلف شہروں میں تعینات کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ منگل کو پیرس کے مغربی علاقے نانتیرے میں پولیس نے 17 سالہ ناہیل ایم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد مختلف شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ناہیل ایم اپنی والدہ کی واحد اولاد تھے جو گھروں میں کھانا پہنچانے والے ڈیلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے اور رگبی لیگ میں بھی کھیلتے تھے۔پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو مخلتف رنگ دینے کی کوشش کی تھی تاہم جب سوشل میڈیا پر گولی مارنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو پیرس سمیت مضافاتی علاقوں میں شہریوں نے پولیس اہلکاروں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ناہیل کے خاندان کا تعلق الجزائر سے ہے۔فرانس میں مظاہرین نے ناہیل کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ عرب یا سیاہ فام ہیں تو یہاں روزانہ پولیس کی جانب سے تشدد ہوتا ہے۔سابق برازیلین صدر جیر بولسونارو کو صدارتی الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا۔برازیل کی سپریم الیکٹورل کورٹ نے سابق صدر جیر بولسونارو کو صدارتی انتخاب لڑنے سے روک دیا۔سپریم الیکٹورل کورٹ نے جیر بولسونارو پر پابندی کا فیصلہ پانچ دو کی اکثریت سے سنایا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جیر بولسونارو پر 2022 میں اختیارات کے غلط استعمال کا الزام ثابت ہوا تھا۔برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ توقع ہے سابق صدر جیر بولسونارو اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔