TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –24 JULY
نئی دہلی ،24جولائی:پیر کے روز منی پور معاملے پر ایک بار پھر پارلیمنٹ میں زوردار ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ راجیہ سبھا میں بھی منی پور ایشو کو لے کر ماحول گرمایا رہا۔ ایک طرف راجیہ سبھا کی کارروائی کے دوران ایوان کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ اور ٹی ایم سی لیڈر ڈیریک او برائن کے درمیان تلخ نوک جھونک ہو گئی، اور دوسری طرف دھنکھڑ نے عا?پ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے ایوان سے ہی معطل کر دیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق مرکزی وزیر اور راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر پیوش گویل نے راجیہ سبھا چیئرمین سے سنجے سنگھ کی شکایت کی تھی۔ ان کی شکایت کی بنیاد پر ہی سنجے سنگھ کو راجیہ سبھا میں مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے سنجے سنگھ کو معطل کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد اپوزیشن کے سبھی لیڈروں نے راجیہ سبھا چیئرمین کے ساتھ میٹنگ کی اور فیصلے پر از سر نو غور کرنے کی بات کہی۔سنجے سنگھ کی راجیہ سبھا سے معطلی معاملے پر عا?پ لیڈر سوربھ بھاردواج نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری لیگل ٹیم اس معاملے کو دیکھے گی۔ اگر ملک کی ا?واز اٹھاتے ہوئے سنجے سنگھ معطل بھی ہوتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔دراصل مانسون اجلاس میں اپوزیشن منی پور وائرل ویڈیو معاملے پر پی ایم مودی سے ایوان میں جواب دینے کے مطالبے پر بضد ہے۔ ہنگامہ کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ 2 بجے جب کارروائی شروع ہوئی تو ایک بار پھر ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اس درمیان دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا بیان سامنے ا?یا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں پہنچ کر منی پور معاملے پر بیان دینا چاہیے۔ وہ چھپ کر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ اگر منی پور جل رہا ہے تو عوام کہاں جائے گی؟ عوام تو اپنے وزیر اعظم کے پاس ہی جائے گی۔ وزیر اعظم کو سامنے آکر مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہیے۔