میئر کاجل کماری کی غلط روی، شہری مسائل حل کیلئے گولبند ہوئے کئی وارڈ کاؤنسلر

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –25 JULY      

       سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) آج مورخہ 25 جولائی کو سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن علاقہ کے ایک نجی ادارے میں میونسپل کارپوریشن کے کئی وارڈ کونسلروں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے ایک بیٹھک کا انعقاد کیا گیا کیونکہ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن میں موجودہ میونسپل کمشنر یتندر کمار پال اور میئر کاجل کماری کے درمیان کئی مہینوں سے جاری تنازعہ اور شہر میں ترقیاتی کاموں کی سست رفتاری سے شہر والوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے انھیں سچائی سے آگاہ کرنا تھا، کانفرنس میں نائب  میئر ستونتی دیوی، وارڈ کاونسلر سکانتی سنگھ، سنجئے جیسوال، امیت کمار، آنند جیسوال، پروین کمار، فرزند کیلا دیوی و دیگر اہم لوگ موجود تھے، سبھی جانتے بھی ہیں کہ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن کے میئر کے عہدہ کی حلف برداری 13 جنوری 2023 کو ہوئی، اس وقت کے ایکزیکٹیو آفسر کے ساتھ میئر کاجل کماری کے اچھے تعلقات تھے جو 15 اپریل تک وہاں موجود تھے، میونسپل کارپوریشن میں انکے چاہنے پر مثلاً میونسپل کارپوریشن میں فیملی کے ساتھ سالگرہ منانا، پرائیویٹ شخص کو بڑا کمرہ دیکر سرکاری کام میں مداخلت کرانا وغیرہ، لوگوں کا کہنا تھا کہ بورڈ نے فروری میں ہی بڑے کوڑے دان خریدنے، ضرورت کے مطابق صفائی کا سامان خریدنے، 224 نالی گلی بنانے، ہر وارڈ میں دو دو واٹر ویٹ لگانے، بیت الخلاء اور یورینل بنانے، وزیر اعلیٰ شہری نالی گلی کے کرائے گئے کام کا پیمنٹ کر بقیہ کام کا فیصلہ لیا گیا تھا تو جنوری سے لیکر اپریل تک سہسرام میونسپل کارپوریشن بورڈ نے ایک بھی کام نہیں کیا یا اسکا ٹینڈر کیوں نہیں ہوا؟ اس دور میں ایک مرتبہ بھی ترقیاتی کاموں کے لئے دھرنا یا تالہ بندی کیوں نہیں ہوئی؟ بہار میونسپل ایکٹ 2007 کی دفعہ 61 کے تحت بااختیار اسٹینڈنگ کمیٹی کی کارروائی پنجی ابھی تک کونسلروں کو کیوں نہیں مہیا کرائی جا رہی ہے؟ با اختیار کمیٹی کے ایکشن رجسٹر میں ایسی کون سی چیز ہے جو میئر کاجل کماری کے ذریعہ باشندگان شہر اور کونسلرس سے چھپائی جا رہی ہے؟ جن درخواست دہندگان نے میوٹیشن کے لئے ایک فیصد رقم پہلے ہی جمع کرا رکھی تھی انکا میوٹیشن چار ماہ میں کیوں نہیں ہوا؟ پورے بہار سے ایک فیصد زیادہ میوٹیشن فیس لیکر سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن میں دیگر میونسپلٹیوں سے زیادہ کیا ترقی ہوئی یا ہوگی؟ بورڈ اور بااختیار قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں کی ویڈیو گرافی میں کیا مسئلہ ہے؟ ویڈیو گرافی سے شفافیت آئیگی اور شفافیت کا کیا ڈر ہے؟ پانی جماؤ کے حل کے لئے ڈرینیج تعمیر، نکاسی آب کا ایجنڈا بورڈ سے کیوں نہیں پاس ہوا؟ یکم فروری کی میٹنگ میں سکانتی سنگھ نے نالوں کی صفائی کا مشورہ دیا جس پر میئر نے کوئی فیصلہ نہیں کیا کیوں؟ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن کمشنر یتندر کمار پال نے صفائی کا سامان خریدنے کی تجویز دی تھی کیوں ٹھکرا دی گئی؟ ایڈمنسٹریٹر کی 17 سکیمیں کیوں منسوخ کی گئیں؟ کیا وہ شہر کیلئے نہیں تھا، جبکہ وہ اسکیمیں محکمہ شہری ترقیات نے پاس کی ہیں، اسکے لئے لیٹر نمبر 4661 دیکھا جاسکتا ہے، بورڈ میں پاس ہونے والے منصوبے بااختیار قائمہ کمیٹی میں کس اصول کے تحت کاٹے جاتے ہیں؟ ترقی کا یہ کون سا فارمولا ہے؟ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن کمشنر کی گاڑی اور دفتر غیر قانونی اور میئر کا دفتر اور گاڑی پر پیسہ خرچ کرنا کس اصول کے تحت جائز ہے؟ بس اسٹینڈ میں بس مالکان سے 18 فیصد غیر قانونی جی ایس ٹی دو ماہ سے وصولا گیا اسکا بااختیار قائمہ کمیٹی میں کب فیصلہ ہو گا جو نہیں ہوا؟ کب تک مچھلی منڈی کی غیر قانونی وصولی ہوگی خاموشی کیوں؟ بہار میونسپل ایکٹ 2007 کی دفعہ 49 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر بیٹھے درجنوں فیصلے لئے جاتے ہیں کیوں؟ میئر اور بااختیار قائمہ کمیٹی کی جانب سے ابھی تک کچرا ڈمپنگ اسٹیشن کے لئے جگہ کی نشاندہی ابتک نہیں کی گئی کیوں؟ موجودہ ایگزیکٹو آفیسر اندر کمار پال کو سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن میں آئے چند ماہ ہی ہوئے ہیں ۔ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن میں آنے کے ساتھ ہی میونسپل کمشنر نے این جی او بحالی کے لئے ٹینڈر طلب کئے ۔ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن کی تاریخ میں پہلے میونسپل کمشنر عام لوگوں کے درمیان جاکر تمام ملازمین کے ساتھ عام لوگوں کے مسائل سن رہے ہیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کچرا ڈمپنگ سٹیشن کے لئے جگہ جگہ جا کر جگہ کو نشان زد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کروڑوں کی اسکیموں کے لئے ٹینڈرز طلب کئے گئے ہیں ۔ میونسپل کمشنر یتندر کمار پال عوام کے مطالبے پر بہت سے کام کر رہے ہیں، وہ میونسپل کارپوریشن میں پارکنگ وغیرہ کے لئے بھی کام کر رہے ہیں، ان کاوشوں کے لئے وہ شکریہ کا مستحق ہیں نہ کہ مخالفت کے، آج بیٹھک میں موجود لوگوں نے کہا کہ سہسرام ​​میونسپل کارپوریشن انکے دور میں ترقی کی طرف گامژن ہو گی، اسکے ساتھ ساتھ میئر، ڈپٹی میئر، سٹینڈنگ کمیٹی کے مضبوط ممبران اور کونسلرس سے بھی درخواست کی گئی کہ اپنے ذاتی مفاد اور انا کو چھوڑ کر شہر کی ترقی کے لئے مل کر کام کریں ۔