TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -05 JULY
اسلام آباد ،05جولائی: پاکستان کے سپریم کورٹ نے یونا ن کے کشتی سانحہ میںجس میں 350سے زیادہ پاکستانی کی موت کو انسانی حقوق کو بڑا مسئلہ قرار دیا ہے ۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ جو لوگ ملازمت کے جھانسے میںان غریب پاکستانیوں کو لوٹتے ہیں ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے ۔ چاہے انسانی اسمگلروں کو لاکھوںروپے ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ پاکستان میں بچوں اور عورتوں کی بھی انسانی اسمگلنگ ہوتی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے کہا کیا ان کے پاس بچوں کی اسمگلنگ کے بارے میں اعداد شمار موجود ہے ۔ انسانی اسملنگ کو روکنا پولیس کی ذمہ داری ہیسریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بھی انسانی اسملنگ روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا ۔ یونان میں ہونے والا کشتی حادثہ انسانی حقوق کامسئلہ ہے ۔ گزشتہ ماہ لیبیا سے یونان کی طرف جانے والی ماہی گیروں کی ایک کشتی بحر روم میںپلٹ گئی اس میں 750تاریکی وطن سوار تھے جس میں سے 350سے زائد پاکستانی ہلاک ہو ئے ان کے علاوہ افغان ،مصری اور شامی باشندے بھی تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب تاریکی وطن سے بھری کشتیاں الٹ گئیں بیشتر پاکستانی شہریوں شناخت بھی نہیں ہوئی ۔ اس سے پہلے فروری میں ایک اور حادثہ پیش آیا جس میں پاکستان کے ہاکی کے کھلاڑی شاہد رزا بھی ہلاک ہوئے ۔