TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -26 AUG
لکھنؤ،26اگست :اتر پردیش کے ہاتھرس میں 2020 میں ہوئے اجتماعی عصمت دری معاملے میں متاثرہ کا خاندان سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ متاثرہ کے خاندان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے خاندان کو یوپی سے باہر دہلی یا کسی اور ریاست میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو متاثرہ خاندان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یوپی حکومت اور مرکزی حکومت سے دو ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ متاثرہ خاندان کے وکیل نے کہا کہ کیس کے تمام ملزمان کو 2 مارچ کو بری کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کے خاندان کو مسلسل خطرہ ہے۔کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حیرت کا اظہار کیا جب سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جولائی 2022 کے حکم کو دیکھا، جس میں الہ آباد ہائی کورٹ نے متاثرہ کے خاندان کے ممبر کو نوکری دینے اور متاثرہ کے خاندان کو یوپی سے باہر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد بھی یوپی حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔درحقیقت سال 2020 میں ہاتھرس تھانہ چاندپا علاقے میں گاؤں میں رہنے والے چار نوجوانوں نے ایک دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی واردات کو انجام دیا تھا۔ الزام ہے کہ گینگ ریپ کے بعد چاروں نوجوانوں نے متاثرہ کی زبان کاٹ دی تھی۔ یہی نہیں گلا دبا کر قتل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اس دوران بدمعاشوں نے متاثرہ کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی، بعد میں لڑکی کی موت ہوگئی۔

