TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –09 AUG
پریس نوٹ، کلکتہ/ آج ڈاکٹر محمد گوہر ایڈیٹر ان چیف تاثیر نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیاءے صحافت نے آج ایک ایسا رہبر و رہنما کھو دیا ہے ملت و قوم کا بڑا نقصان، اس نقصان کو پر نہیں کیا جا سکتا ہے، لاکھوں طلباء وطالبات کی امیدیں اور رہبری کیا کرتے تھے آپ غریبوں کے لیے مسیحا تھے ہر ایک کے دکھ درد اور آنسوؤں کو پوچھا کرتے تھے، میں خود کیی ایک موقع کا گواہ بنا تھا، اکثر کچھ دنوں تک ملاقات نہیں ہوتی تو فون کرکے بتاتے تھے کہ مختار اس شعبہ پر کام کریں انکا حکم کافی تھا، ڈاکٹر محمد گوہر صاحب ایڈیٹر تاثیر نے کہا کہ اردو دنیائے صحافت کا اس صدی کا بڑا نقصان ہے، اللہ مغفرت فرمائے
آل انڈیا اردو ماس کی جانب سے تعزیتی پیغام بنا کر ریلیز کر دیں خاصکر ظہیر الدین علی خان صاحب کے ساتھ اسکالرس شپس کے لئے بیمثال خدمات انجام دینے ڈاکٹر مختار احمد فردین کی حوصلہ افزائی قابلِ ذکر ہے اسلیے کے اس وقت کوءی بنک اکاؤنٹ نہیں کھول رہا تھا ظہیر الدین علی خان صاحب کی تحریک پر دس روپے میں ہزاروں اکاؤنٹس کھولے گئے، آج طلباء وطالبات جس کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہیں اسکے پیچھے کی محنت اور بلخصوص کیمپ سڑکوں پر بیٹھے تھے ساتھ ڈاکٹر مختار احمد فردین کے، ایسی شخصیت ملت و قوم کا سچا ہمدرد کی اچانک وفات نے جیسے بے یارو مددگار چھوڑ گیے، اللہ درجاتِ بلند فرمائے آمین آل انڈیا اردو ماس کے صدر ڈاکٹر مختار احمد فردین ان دنوں کلکتہ میں ہیں تعزیتی پیغام میں اپنے اراکین محسن خان، ڈاکٹر آصف اقبال، شمس الدین، اختر حسین نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ملت و قوم اور ملک کا قابلِ اعتماد، بےباک صحافی سے دنیائے صحافت کا بڑا نقصان ہوا، تعلیمی تحریک کے لئے انکی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں، ملت اپنے ایک بہترین رہبر و رہنما سے محروم ہوگیا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ مغفرت فرمائے آمین،
کہاں سے ڈھونڈ لاؤں کوئی تجھ سا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
اردو دنیائے صحافت کے لئے بڑا ہی خسارے کا دن، سارا ملک جیسے غم میں ڈوبا، لاکھوں آنکھیں نم، لاکھوں اسٹوڈنٹس اور غریبوں کا مسیحا ظہیر الدین علی خان، منجینگ ایڈیٹر اب ہمارے درمیان نہیں رہے،
جناب ظہیرالدین علی خاں آج انقلابی شاعر غدر کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے جارہے تھے کہ سینے میں شدید تکلیف کی شکایت پر انہیں بوئن پلی کے ایک ہاسپٹل میں منتقل کیا گیاجہاں سے ان کے انتقال کی خبر مل گئی۔ جس سے تمام حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
ملت و قوم کے لئے حقیقی ہمدرد اور رہنمائی کرنے والا بے لوث خدمات انجام دینے والے شخصیات انکے ہمراہ ہوتے تھے اور وہ ہم سبھوں کیلیے رول ماڈل شخصیت کے مالک تھے اور آپ سبھوں سے اسطرح سادگی اور ملت و قوم کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر دیا کرتے تھے اور ہر کام کی پہل کرنے کے لئے حوصلہ دیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اسکالرشپ کی تحریک میں ہمارے ساتھ بنک کیمپ میں سڑکوں پر بیٹھکر ملت و قوم دس روپے میں سات ہزار سے زائد اکاؤنٹس ایک ماہ میں کھولنے کا ریکارڈ قائم کر دیا تھا اور آج لاکھوں کی تعداد میں اسٹوڈنٹس فیض یاب ہوءے تھے، آج سارا شہر حیدرآباد غم میں ڈوبا ہوا اپنی نم آنکھوں سے محبوب رہنما و دوست ظہیر الدین علی خان منجینگ ایڈیٹر کو سپرد خاک ہوئے، مدتوں دلوں میں قاءیم و دائم رہیں گے اور انکے وہ مشن جو باقی رہ گئے بہترین خراج ہوگا کہ ہم سب انکے بتاءے ہوءے اس مشن کو مکمل کی جانب قدم اٹھاءیں گے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین اس خاص موقع پر ڈاکٹر محمد گوہر ایڈیٹر ان چیف تاثیر روزنامہ نے بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حقیقتاً آج اردو دنیاءے صحافت کے لیے بہت افسوسناک دن ہے ہم نے ایک ایسا منجینگ ایڈیٹر کھو دیا ہے جس کا نام پوری دنیا احترام و اہمیت کے ساتھ لیتی تھی آج اردو دنیاءے صحافت انہیں خراج پیش کرتی ہے تاثیر کے تمام ایڈیشن کے اسٹاف قاءرین اور ڈاکٹر مختار احمد فردین نے بھی اظہار تعزیت پیش کیا ہے
مدتوں میں پیدا ہوتے ہیں ایسے رہبر و رہنما، اب کہاں سے ڈھونڈ لاؤں کوئی تجھ سا۔۔۔۔ہمیں سو گیے داستاں کہتے کہتے ….۔
موت اس کی ہے جس کا کرے زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے
ڈاکٹر مختار احمد فردین، کلکتہ