ایران کی قبضہ گیری کا توڑ؟امریکی فوج کا تجارتی جہازوں پر مسلح دستوں کی تعیناتی پر غور

امریکی فوج کا تجارتی جہازوں پر مسلح دستوں کی تعیناتی پر غور

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –04  AUG     

واشنگٹن،4اگست: امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گذرنے والے تجارتی جہازوں پر مسلح دستوں کو تعینات کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس اقدام کا مقصد ایران کو غیرملکی تجارتی بحری جہازوں کو قبضے میں لینے اور ہراساں کرنے سے روکنا ہے۔ 2019 کے بعد سے ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کی غرض سے قبضے کی کارروائیاں شروع کررکھی ہیں اورسپاہ پاسداران انقلاب کی بحری فورسز خلیج کے تنگ ترین دہانے آبنائے ہرمز میں متعدد بحری جہازوں پر قبضہ کیا ہے۔ تجارتی بحری جہازوں پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے ایران کو بحری جہازوں پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے گا یا پھر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔یہ اقدام مشرق اوسط میں امریکی افواج کے غیر معمولی عزم کی نمائندگی بھی کرے گا کیونکہ پینٹاگون روس اور چین پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔تاہم امریکا نے نام نہاد “ٹینکر جنگ” کے دوران میں بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔اس کا اختتام 1988 میں امریکی بحریہ اور ایران کے مابین ایک روزہ بحری جنگ کے ساتھ ہوا تھا۔