بھارت کا فیصلہ درست تھا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -24 AUG      

وطن عزیز کا چندریان۔ 3  لینڈرگزشتہ بدھ کی شام چاند کے جنوبی قطب میں سبک روی کے ساتھ جیسے ہی اتر ا پوری دنیا میں بھارت کی واہ واہی ہونے لگی تھی۔واہ واہی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس کامیاب لینڈنگ سے متعلق خبریں اورستائشی بیانات بھارتی میڈیا میں چھا ئے ہوئے تو ہیں ہی ، بھارت کے اس کارنامے کا غیر ملکی میڈیا میں بھی خوب چرچا ہے۔ برطانوی اخبار’’ دی گارجین‘‘ لکھتا ہے کہ چاند کے قطب جنوبی کے قریب لینڈر اتار کر بھارت نے ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے، جو آج تک کوئی نہیں کر سکا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس کے ساتھ ہی بھارت اب ایک خلائی طاقت بن گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 23 اگست کی شام جیسے جیسے چندریان اور چاند کی دوری کم ہوتی جا رہی تھی تمام بھارتی شہریوں کی ہارٹ بیٹنگ بڑھتی جا رہی تھی۔لوگ گھبرائے ہوئے تھے۔چندریان۔ 3 کی کامیاب لینڈنگ کے لیے مندروں ،مسجد وں، گرجا اور گرودواروں میں خصوصی دعا ئیں ہو رہی تھیں۔ اور پھر بدھ کی شام تقریباً 6 بجے جیسے ہی چندریان۔ 3 کی کامیاب لینڈنگ ہوئی پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔صدر جمہوریہ سے لیکر عام آدمی تک اس بات کو لیکر اپنے اپنے ڈھنگ سے خوشی کا اظہار کرنے اور جشن منارہا تھا کہ چاند پر کامیابی کے ساتھ اترنے والا چوتھا اور چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔اس سلسلے میںاخبار ’’ دی گارجین‘‘ لکھتا ہے کہ  آخری چند لمحوں میں، لینڈر نے بہت پیچیدہ کام انجام دیا۔ اس نے اپنی رفتار 3,730 میل فی گھنٹہ سے کم کر کے تقریباً صفر میل فی گھنٹہ کر دی تھی۔ اسی وقت، اس نے اپنی پوزیشن تبدیل کی اور لینڈنگ کی تیاری کے لیے سیدھی یعنی عمودی پوزیشن لے لی۔اس مقام پر، لینڈر کو صحیح جگہ پر پُش کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ بہت زیادہ زور سے دھکیلنے سے لینڈر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ 2019 کے اوائل میں بھیجے گئےبھارت کے چندریان۔ 2 مشن کی ناکامی انھی آخری چند لمحات میں ہوئی تھی ۔ اس کا لینڈر اپنی پوزیشن تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور تیزی سے چاند کی طرف آگیا۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ امریکا نے برسوں پہلے چاند تک پہنچنے کے لیے جو راکٹ استعمال کیے تھے وہ بھارت کے استعمال کیے گئے راکٹ سے کم طاقتور تھے۔
معروف مصنف ڈیوڈ وون ریلی نے ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘میں لکھا ہے کہ چندریان کا لینڈر، جو دریافت کے مقصد کے ساتھ چاند کے قطب جنوبی پر گیا، امریکہ کی کہانی کی طرح ہے، جس سے ایک قسم کی دوڑ شروع ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ کامیابی جغرافیائی سیاست کے ایک اہم لمحے کی علامت بھی ہے۔ روس کے لونا۔25  کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا  ہےکہ یہ لینڈر چاند کی سطح کی طرف اس طرح بڑھا تھا جیسے روس کے تابوت کے آخری کیل میں ہتھوڑا مار رہا ہو۔ انہوں نے چاند پر روسی مشن کے بارے میں لکھا کہ روس (سابقہ سوویت یونین کا حصہ) نے اپنے خلائی پروگرام کو عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے سب سے پہلے انسانوں کو خلا میں بھیجا، سیٹلائٹس کو مدار میں رکھا اور خلائی جہاز چاند پر اتارا۔ 1966 میں، امریکہ سے تین سال پہلے، اس کا لونا۔6  چاندپر اترا تھا۔ حالانکہ بعد میں امریکہ نے چاند پر پہلا انسان اتار کر تاریخ رقم کی تھی۔ آج روس 1966 میں اپنے کارنامے کو دہرانا چاہتا  تھا، لیکن وہ ناکام رہا اور یہ واضح کر دیا کہ کس طرح بے پناہ صلاحیت رکھنے والے ملک نے اپنی صلاحیت کھو دی ہے۔ یہاںیہ بات بھی قابل غور ہے کہ  1989 میںبھارت کی معیشت سوویت یونین کے مقابلے نصف تھی، لیکن آج بھارت کی معیشت روس کی معیشت سے 50 فیصد بڑی ہے۔ روس آج بھارت کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہ گیا ہے۔
‘ 23 اگست، 2023 کو دنیا کی جغرافیائی سیاست اور موجودہ ورلڈ آرڈر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈیوڈ وون ریالی لکھتے ہیں کہ جدید دنیا کے تصور میں روس کا ایک اہم مقام تھا، لیکن یہ ستون ٹوٹ گیا ہے اور چین ایک طاقت بن کر ابھرنے لگا ہے۔حالانکہ چین کے اپنے مسائل ہیں۔ چندریان۔ 3 جب چاند پر کامیابی سے اترا تھا، اس وقت اس کے اسٹائل پر بھی دنیا فدا ہو گئی ہے۔’’ دی اکانومسٹ ‘‘نے اس خبر کو بڑی خوبصورتی  کے ساتھ چھاپاہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ بھارت کے لینڈر نے نہ صرف چاند پر لینڈنگ کی بلکہ ایسے اسٹائل کے ساتھ لینڈنگ کی ، جو قابل دید تھی۔ اس اہم ایونٹ کو بھارت میں ایک ایسی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو صرف چند ممالک ہی کر سکے ہیں ۔ اس سے دنیا میں ایک خلائی لیڈر کے طور پربھارت کا امیج مضبوط ہواہے۔اخبار نے اشارے اشارے میں کہا ہےکہ بھارت میں اگلے سال عام انتخابات ہونے ہیں۔بھارت کی یہ خلائی پیش رفت وزیر اعظم نریندر مودی کے قوم پرست پیغام میں فٹ بیٹھتی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سوویت یونین نے 1960 اور 70 کی دہائیوں میں چاند پر انتہائی پیچیدہ روورز اتارے تھے،  وہاں سے چاند کی مٹی کے نمونے بھی جمع کیے تھے، لیکن سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سے روس ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکا۔ روس یہ کام لونا۔25 کے ذریعہ کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ جبکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب چاند مشن سے متعلق معاملات میں بھارت روس سے مدد لیتا تھا۔ تقریباً دس سال پہلے، روس بھارت کے چندریان-2 کے لیے لینڈر بنانے والا تھا۔ لیکن روس کے مریخ مشن کی ناکامی کے بعد، بھارت نے اپنے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔گرچہ چندریان۔2 کامیاب نہیں ہو سکا، لیکن اس کے بعد چندریان۔ 3 کی کامیابی سے ایسا لگتا ہے کہ بھارت کا فیصلہ درست تھا۔
**************************