TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –17AUG
وطن عزیز بھارت کی پانچ ریاستوں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں آنے والے مہینوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ان پانچ ریاستوں میں، بی جے پی صرف مدھیہ پردیش میں اقتدار میں ہے۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومت ہے جبکہ تلنگانہ کی حکومت کی باگ ڈور بی آر ایس کے ہاتھوں میں ہے۔ان پانچوں ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی بالکل آر پار کے موڈ میں ہے۔چنانچہ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مدھیہ پردیش کے لیے 39 اور چھتیس گڑھ کے لیے 21 امیدواروں کے نام کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ریاستوں میں اسی سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے اعلان سے پہلے ہی امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرکے بی جے پی نے اپنی جارحانہ حکمت عملی واضح کردی ہے۔ اس سے قبل، بدھ کو بی جے پی کی مرکزی الیکشن کمیٹی کی میٹنگ نئی دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ہوئی۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلی رمن سنگھ نے میٹنگ میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور قومی صدر جے پی نڈا سمیت کئی بڑے بی جے پی لیڈر بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ دیر رات تک جاری رہی۔ میٹنگ میںمدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ بی جے پی مدھیہ پردیش میں 125 اسمبلی سیٹوں اور چھتیس گڑھ کی 27 اسمبلی سیٹوں کو اپنے لیے کمزور سمجھ رہی ہے، جس پر میٹنگ میں خاص طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایسے میںیہ لگ رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی دونوں ریاستوں کے امیدواروں کی عنقریب ہی مزید فہرستیں بھی جاری کر سکتی ہے۔ دراصل، بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں جیت کے امکانات کی بنیاد پر سیٹوں کو اے، بی، سی اور ڈی (چار زمروں) میں تقسیم کیا ہے۔ پارٹی نے ان سیٹوں کو اے اور بی کیٹیگریز میں شامل کیا ہے، جہاں پارٹی کے الیکشن جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں یا پارٹی لڑائی میں ہے۔ دوسری طرف سی اور ڈی کیٹیگری میں ان اسمبلی سیٹوں کو شامل کیا گیا ہے، جہاں بی جے پی نے بہت کم فرق سے الیکشن جیتا ہے یا جہاں اس نے کبھی الیکشن نہیں جیتا ہے۔ ساتھ ہی، پارٹی سی اور ڈی کیٹیگری میں شامل سیٹوں کو اپنے لیے کمزور سمجھ رہی ہے اور ان کمزور سیٹوں پر الیکشن جیتنے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہی مرکزی الیکشن کمیٹی کا یہ اہم اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا تھا، جس میں کے نام طے کیے گئے ۔ادھر بی جے پی کی خاص نگاہ مد ھیہ پردیش کی ان سیٹوں پر ہے، جہاں پارٹی کو 2018 کے اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بی جے پی نے کمل ناتھ کے خاص سجن سنگھ ورما کو گھیرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے سندھیا کے حامی لیڈر کو بھی خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ساتھ ہی ایک ایک سیٹ پر ہر پہلو سےغور و فکر کرکے امیدواروں کے نام طے کئے جا رہے ہیں۔
ادھربھارتیہ جنتا پارٹی نے راجستھان اسمبلی انتخابات 2023 کے حوالے سے جمعرات کو دو اہم کمیٹیوں کی تشکیل کر دی ہے۔ریاستی صدر سی پی جوشی نے پارٹی کے ریاستی انچارج ارون سنگھ کی موجودگی میں ریاستی الیکشن مینجمنٹ کمیٹی اور سنکلپ پترکمیٹی کا اعلان کیا۔ ان دونوں کمیٹیوں میں کل 46 لیڈروں کو جگہ دی گئی۔ سابق ایم پی اور ریاستی نائب صدر نارائن پنچاریہ کو الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی سنکلپ پتر کمیٹی کو مربوط کرنے کی ذمہ داری مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال کو دی گئی ہے۔ دونوں اہم کمیٹیوں میں سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ریاست میں بی جے پی کے سب سے بڑے چہروں میں سے ایک وسندھرا کا نام شامل نہ کرنے پر سیاسی حلقوں میں چرچے شروع ہو گئے ہیں۔ جے پی نڈا کی نئی ٹیم میں وسندھرا شامل ہیں۔ راجستھان کی سابق وزیراعلیٰ وسندھرا راجے اس وقت پارٹی کی قومی نائب صدر ہیں۔ گزشتہ ماہ پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کی نئی ٹیم میں بھی انہیں قومی نائب صدر کے عہدے پر برقرار رکھا گیا تھا۔ تاہم اس وقت بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ وسندھرا کو انتخابی سال میں مرکزی ٹیم کے بجائے ریاست میں رول کیوں نہیں دیا جا رہا ہے؟ تاہم، حال ہی میں ریاست میں منعقدہ وزیر اعظم نریندر مودی کی میٹنگوں میں وسندھرا کی فعال شرکت کے بعد، ان کے مداح بہت خوش نظر آئے تھے۔ اجمیر مہاسبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے تبصرے کے بعد بھی وسندھرا کیمپ خاص طور پر پرجوش تھا۔
اس بار بی جے پی کی پوری کوشش یہ ہے کہ امیدواروں کے نام طے کرنے میں سبھی اہم لیڈروں کی رائے لی جائے تاکہ کسی بھی سیٹ پر آپسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئے۔اسی کوشش کا نتیجہ ہے کہ امیدواروں کا فیصلہ پھونک پھونک کر لیا جا رہا ہے۔تاہم حالات بتا رہے ہیں کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پارٹی گروپ بازی اور اس کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہونے سے نہیں بچ سکے گی اور یہی داخلی ریشہ دوانیاں پارٹی کی راہ کا روڑا بن سکتی ہیں۔
***********

