دہلی کے چار ممبران اسمبلی نے پچھلے چار سالوں میں اجلاس میں ایک سوال نہیں اٹھایا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –09 AUG      

نئی دہلی ،9اگست: دہلی اسمبلی میں ممبران کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور امانت اللہ خان کے علاوہ تین ایسے ممبران ہیں جنہو ںنے تین سال کے دوران ایک بھی سوال نہیں اٹھایا ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کے مسائل اٹھانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ ایک طرف کیجریوال کی حکومت سیاسی تنازعوں میں گھیری رہی تو دوسری طرف عام آدمی پارٹی او ربی جے پی کے ممبران ایوان میں عوام کے مسائل اٹھانے میں کوئی دلچسپی نہیں دیکھائی ۔ امانت اللہ خان کے علاوہ پرہلاد سنگھ ساہانی ،دنوتی چنڈیلا اور دنیش مونہیانے ایوان کی کارروائی کے دوران جیسے مون برتھ ہی رکھا ۔ ممبئی کی ایک تنظیم ’’پرجا فائونڈیشن ‘‘ نے اس سلسلے میں ایک سروے کرائی جس میں یہ بھی کہا گیا کہ نہ صرف ایوان کے اجلاسوں میں کمی آئی بلکہ اکثریت ممبران نے بحث ومباحثہ میں حصہ ہی نہیں لیا عام طور پر اجلاس کے دوران 1200سے زیادہ مدعے اٹھائے جاتے ہیں لیکن اس میں 62فیصدی کمی آئی ہے۔ اس تنظیم نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ بی جے پی کے تین ممبران نے اچھی کاررکردگی کا مظاہرہ کیا او رہر وقت اجلاس کے دوران عوام اور دوسرے مسائل اٹھاتے رہے۔ ان میں اجے کمار مہاورسب سے فعال رہے۔ موہن سنگھ بشٹ اور اوم پرکاش شرما کی بھی اچھی کاررکردگی رہی ۔ جمہوری نظام میں منتخب ممبروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایوان میں ملک اور عوام کے مسائل کو اجاگر کریں۔ پرجا فائونڈیشن کے سربراہ یوگیش مشرا نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس سال دس ممبران اسمبلی نے کوئی بھی سوال نہیں اٹھا یا ہے ان میں مٹیا محل کے شعیب اقبال بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اکثر ممبران اجلاس کے دوران غیر حاضر رہتے ہیں۔ اور اس سے جمہوریت کونقصان پہنچتا ہے۔