ری پبلکن صدارتی امیدواروں کی پہلی ڈبیٹ میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی، بائیڈن حکومت پر بھی تنقید

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -24 AUG      

واشنگٹن،24اگست: امریکہ میں آئندہ صدارتی انتخابات کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ری پبلکن جماعت کے آٹھ امیدواروں نے بدھ کو پہلے مباحثے میں حصہ لیا اور صدر جو بائیڈن کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایک دوسرے پر نکتہ چینی بھی کی۔فاکس نیوز پر نشر ہونے والے اس مباحثے میں شریک ارکان ڈونلڈ ٹرمپ پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جو اب تک صدارتی نامزدگی کی اس دوڑ میں اپنے حریفوں پر نمایاں برتری رکھتے ہیں۔ری پبلکن امیدواروں کے پہلے مباحثے میں شریک امیدوار یوکرین کے لیے امریکی حمایت، ملک بھر میں اسقاطِ حمل کو کب اور کس طرح روکنا، تعلیم اور 2024 کے صدارتی انتخابات کے لیے پارٹی کے حتمی نامزد امیدوار کی حمایت سمیت متعدد مسائل پر ماڈریٹرز کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔خبر رساں ادارے ‘ایسو سی ایٹڈ پریس’ کے تجزیے کے مطابق ری پبلکن جماعت کے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل امیدواروں کے درمیان ہونے والی بحث نے پارٹی کے اندر گہری تقسیم کو واضح کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اس ڈبیٹ میں شریک نہیں تھے، بحث میں شرکت کے بجائے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر فاکس نیوز کے سابق اینکر ٹکر کارلسن کو ایک انٹرویو دیا۔اس آن لائن انٹرویو میں ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو، اور اپنیری پبلکن حریف امیدواروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔زیادہ تر امیدواروں نے یوکرین میں روس کی جنگ میں یوکرین کی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا، لیکن اس میں قابل ذکر استثنا وویک رام سوامی تھے۔ جو ایک بزنس لیڈر ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ امریکہ نے خوداپنے مسائل حل نہیں کیے ہیں، ایسے میں اس ملک (یوکرین)کی حمایت کرنا “تباہ کن” تھا۔ان کے اس بیان پر مقابل حریفوں نے شدید تنقید کی ، جن میں اقوامِ متحدہ کی سابق سفیر نکی ہیلی بھی شامل تھیں۔ جن کا کہنا تھا “آپ کو خارجہ پالیسی کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور یہ نظر آتا ہے۔”ایک موقع پر خارجہ پالیسی پر ہونے والے بات کے دوران وویک رام سوامی اور نکی ہیلی 30 سیکنڈ سے زیادہ ایک دوسرے پر چیخے چلائے اور اس دوران ماڈریٹر خاموش رہے۔بدھ کی رات پہلے ری پبلکن پرائمری مباحثے میں امیدوار اسقاط حمل کے بارے میں پارٹی کو درپیش چیلنجز اور اپنے مو?قف کی وضاحت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے الجھتے نظر آئے۔