مرکز کا سپریم کورٹ کو جواب – جموں و کشمیر میںکبھی بھی انتخابات کرانے کو تیار لیکن مکمل ریاست کی کوئی ٹائم لائن طےنہیں

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –31 AUG      

نئی دہلی، 31 اگست: سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے آرٹیکل 370 پر سماعت کے 13ویں دن جمعرات کو مرکزی حکومت نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔ ووٹر لسٹ تقریباً تیار ہو چکی ہے۔
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پنچایتی انتخابات، میونسپل انتخابات کے بعد اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن یہ کب تک ہو گا، اس کے لیے طے وقت نہیں بتا سکتے ہیں ۔
دراصل 29 اگست کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا تھا کہ جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے ٹائم لائن اور اس کا روڈ میپ کیا ہے؟ عدالت نے مرکز سے پوچھا تھا کہ ریاست میں انتخابات کب کروا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 پر سماعت کا آج 13 واں دن ہے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے 23 اگست کو دلائل مکمل کر لئے گئے ۔ چیف جسٹس کے علاوہ پانچ رکنی بنچ میں جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کے بعد مرکزی حکومت نے کئی قدم اٹھائے ہیں۔
مرکزی حکومت نے ریاست کی تمام اسمبلی سیٹوں کے لیے حد بندی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کو زمین خریدنے کی اجازت دینے کے لئے جموں و کشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر خواتین کمیشن، جموں و کشمیر احتساب کمیشن، ریاستی صارف کمیشن اور ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو بند کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے 2 مارچ 2020 کواپنے حکم میں کہا تھا کہ اس معاملے کی سماعت صرف پانچ ججوں کی بنچ کرے گی۔ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے اس معاملے کو سات ججوں کی بنچ کو بھیجنے کا مطالبہ مسترد کر دیاتھا۔