TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –09 AUG
نئی دہلی ،9اگست: کانگریس رہنما راہل گا ندھی نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہو ںنے ’’بھارت ماتا ‘‘کا قتل کیا ہے اور تشدد زدہ منی پور کا دوحصوں میں بانٹ دیا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہو ںنے حکومت کے خلاف تابڑتوڑحملے کئے ۔ او رکہا کہ بحیثیت وزیراعظم آپ بھارت ماتا کے رکھوالے تھے او رآپ اس کے قاتل ثابت ہوئے۔ انہو ںنے کہا کہ وزیراعظم اس وجہ سے منی پور نہیں گئے کیونکہ وہ اسے ہندستان کا حصہ ہی نہیں مانتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے بی جے پی کے ممبرو ں نے زبردست احتجاج کیا ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مرکزی حکومت منی پورمیں تشدد کا روک سکتی تھی اگر وہ منی پور میں فوج تعینات کرتی لیکن انہو ںنے ایسا نہیں کیا ۔ رامائن کا ذکرکرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ راون کو بھگوان رام نے نہیں مارا بلکہ اس کے تکبرنے مارا ۔ جہاں جاتے ہوئے وہاں آگ پر مٹی کا تیل چھڑکتے ہوئے یہی اب ہریانہ میں حال ہی میں ہوا ہے جہاں فرقہ وارانہ فسادات میں چھ لوگ مارے گئے ہیں ۔ کئی وزراء نے ان کے اس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ۔ بھارت جوڑو یاترا کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ہندستان کے عوام غو ر اور تکبر سے نفرت کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت پورے ہندستان میں آگ لگا دی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مرکزی حکومت شمالی مشرقی ریاستوں کو دوحصوں میں بانٹا چاہتی ہے۔ انہوںنے اسپیکر کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی ممبر شپ بحال کی گئی ہے او رساتھ ہی کہا کہ پچھلے سال میں نے اڈانی کے مسئلے کو اٹھایا ۔ مجھے لگتا ہے کہ اس سے آپ کے سینئر رہنمائوں کو دکھ پہنچا ہوگا ۔ انہو ںنے کہاکہ بی جے پی کو اطمینا ن رکھنا چاہئے کہ میں آج اڈانی کی بات نہیں کروں گا ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے حق کی آواز دبائی ہے۔ راہل گاندھی جنہو ںنے منی پور کا دورہ کیا نے کہا کہ جب وہ ایک عورت سے ملے تواس عورت نے ان سے بتا یا کہ میری آنکھوں کے سامنے میرے بچے کو قتل کیاگیا وہاں گھروں کے گھر جلا دیئے گئے۔