TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –10 AUG
ہریانہ کے نوح ضلع میں گزشتہ ہفتے ہونے والے تشدد کے بعد سے پولیس نے اپنی کارروائی تیز کر دی ہے۔ شرپسندوں کی تلاش میں لگاتار چھاپے ماریاں ہو رہی ہیں۔چھاپے ماریوں کے دوران ہریانہ پولیس نے ایک انکاؤنٹر میں کل جمعرات کو ایک ملزم کو گولی مار دی ۔ملزم زخمی ہے۔فی الحال پولس کی نگرانی میں وہ زیر علاج ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر یانہ پولیس اس مبینہ انکاؤنٹر کے بعد گرفتار دونوں ملزمین، نام کے لحاظ سے مسلمان ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہریانہ کے ضلع نوح میں 31 جولائی کو’’جلابھیشیک یاترا‘‘ کے دوران تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو فرقوں کے لوگ آمنے سامنے آگئے۔اور اس طرح تشدد کی آگ نوح اور میوات ہوتی ہوئی گروگرام تک پہنچ گئی۔ اس تشدد میں مسجد کے ایک امام اور ہوم گارڈ کے 2 نوجوانوںسمیت 6 لوگوں کی موت ہو گئی۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ شرپسندوں نے کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ کئی دکانیں لو ٹ لیں۔تشدد کے دوران انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔بات یہ نکل کر سامنے آئی کہ انتظامیہ کو پہلے سے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ جلا بھیشیک یاترا کے موقع پر ا چانک اتنے سارے لوگ جمع ہو جائیں گے کہ قانون و انتظام کا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ انتظامیہ نے اس وقت مورچہ سنبھالا جب سب کچھ تباہ وو برباد ہو چکا تھا۔ چاروں طرف لوگ روتے بلکتے نظر آ رہے تھے۔ بہت سارے لوگ راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے اپنے اپنے گھروں اور دکانوں کے پاس کھڑے ہوکر اپنی تباہی و بربادی کا منظر دیکھ رہے تھے۔زیادہ تر تباہ حال لوگوں میں سے ہی اب تک کم سے کم 200 افراد کو گرفتار کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔تشدد کے بعد سے اس معاملے میں پوری ریاست میں 100 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ کل تک 80 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے کئی کیس سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کے لیے درج کیے گئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ تشدد کے دوران جن گھروں کی چھتوں سے جلا بھیشیک جلوس پر سنگ باری کی گئی، انتظامیہ نے یوپی کی طرز پر بغیر کسی نوٹس کے ان گھروں کو بلڈوزر سے زمین بوس کرنے کی کارروائی شروع کر دی تھی۔مینا دور اور فیروز پور جھرک میں نیم فوجی دستوں اور پولیس کی موجودگی میں بلڈوز کی کارروائی کی گئی۔ نوح میں 37 مقامات پر، مبینہ غیر قانونی تعمیرات کو ڈھا دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کُل 1208 تعمیرات مسمار کر دی گئیں۔ ان میں سے زیادہ تر تعمیرات مسلم کمیونٹی کے لوگوں کی تھیں۔شکر منا ئیے کہ دیر سے ہی سہی از خود معاملے پر ایکشن لیتے ہوئے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے بلڈوزر کی کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ہائی کورٹ کی جانب سے ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا ہوتا توانتظامی کارروائی کے نام پر نوح اور اس کے متصل علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کو ابتک پوری طرح سے اجاڑ دیا گیا ہوتا۔
اِدھر ہریانہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گائے کے اسمگلروں ناصر اور جنید کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے نوح میں ہندؤں کی ’’دھارمک یاترا‘‘ پر حملہ کیا گیا تھا۔پولس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہماری تفتیش اچھی طرح سے آگے بڑھ رہی ہےاور کسی نہ کسی طرح سچ سامنے آرہا ہے۔پولس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران 4 ملزمین نے یہ اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے راجستھان کے رہنے والے محمدناصر اور محمد جنید کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ’’دھارمک یاترا‘‘ پر حملہ کیا تھا۔ ملزمین کے حوالے سے پولس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جیسے ہی ا ن لوگوں کو معلوم ہوا کہ مونو منیسر اور گو رکھشا دل کے کئی ارکان’’دھارمک یاترا‘‘ میںشامل ہو رہے ہیں، تو انھو ںنے تیاری کرکےپچاس لوگوں کے ساتھ اس ’’دھارمک یاترا‘‘ پر حملہ کر دیا، جس کی وجہ سے ہریانہ میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔مبینہ طور پر پولس کی جانچ میںیہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اتر پردیش کے متھرا ضلع کے دو نوجوان بھی تشدد میں ملوث تھے۔ اس کے بعد نوح پولیس نے متھرا پولیس سے تحقیقات میں تعاون مانگا ہے۔ چار دن قبل بھرت پور کے پہاڑی تھانہ علاقہ کے ساولر گاؤں کے رہنے والے سلیم، صابر، اشفاق اور گھیسیڈا گاؤں کے رہنے والے الطاف کو تشدد کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر کے ریمانڈ پر لیا تھا۔ سائبر فراڈ کے معاملے میں سلیم اور گائے کی اسمگلنگ میں الطاف پہلےسے ملزم ہے۔
ہریانہ حکومت کے ساتھ ساتھ وہاں کی پولس انتظامیہ کا اس معاملے میں جو رویہ ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہاں کے مظلومین کو ہی ملزمین بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔اور مونو منیسر اور بٹو بجرنگی ، جنھوں نے خود سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک فرقہ کے لوگوں کے لئے اشتعال انگیز الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ، پھول مالا لیکر ان کے استقبال کے لئے تیار رہنے کے لئے کہا تھا۔ان کے لوگوں نے سڑکوں پر تلوار وں کو لہرا کر اپنی طاقت کے اظہار کاویڈیو وائرل کیا تھا، جسے پوری دنیا نے دیکھا تھا، لیکن اس طرح کے ویڈیو ابھی تک ہریانہ پولس کی نظروں سے نہیں گزر سکا ہے یا اگر گزرا بھی ہے تو وہ شایدمونو منیسر اور بٹو بجرنگی کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ایسے میںیہ کہہ پانا بہت مشکل ہو ہے کہ ہریانہ کے مظلومین کے ساتھ انصاف ہو سکے گا۔لہٰذا، ملک کے تما م امن پسند عوام کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئیں، نوح اور میوات کے مظلومین کی ،جس طرح سے بھی ہو سکے مدد کریں۔ان کی قانونی مدد آپ نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا ؟
*************************

