TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –01 AUG
نوح،یکم اگست: ہریانہ میں علاقہ میوات کے شہر نوح میں گزشتہ روز وشو ہندو پریشد کی ’برج منڈل‘ یاترا میں موب لنچنگ کے ایک ملزم مونو مانیسر کی شرکت اور اشتعال انگیز نعرے بازی کے سبب بھڑکی تشدد کی آگ میں اب تک 5 افراد کی جان چلی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد نوح کے کئی علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔ اے بی نیوز کی رپورٹ کے مطابق حالات کے پیش نظر گروگرام سمیت تشدد زدہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور انٹرنیٹ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام اسکولوں کو بند کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق نوح میں تشدد کے بعد گروگرام کے سیکٹر-57 میں شرپسدوں کے ہجوم کے ایک مسجد کو نذر آتش کر دیا گیا اور ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جس کے بعد پورے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ اس واقعہ کے بارے میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ہجوم نے فائرنگ کی جس کی وجہ سے دو افراد زخمی ہوئے اور ان میں سے ایک نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ متوفی کی شناخت بہار کے رہنے والے سعد کے طور پر ہوئی ہے۔نوح میں یاترا کے دوران ہوئے تشدد میں زخمی ہونے والے مزید دو افراد کی موت ہو گئی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت ہوم گارڈ نیرج اور گرسیوک اور بھادس گاؤں کے رہنے والے شکتی کے طور پر کی گئی ہے۔ تشدد میں مارے گئے چوتھے شخص کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ نوح میں تشدد کے دوران زخمی ہونے والے 23 افراد میں 10 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 11 ایف آئی آر درج کی ہیں اور 27 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ تشدد کے دوران 50 کے قریب گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہریانہ کے نوح میں نیم فوجی دستوں کی 15 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ نوح میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر مرکزی وزارت داخلہ نے نیم فوجی دستوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ریاستی حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ سے اس کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ہریانہ اسکول ایجوکیشن بورڈ کے نوح ضلع میں یکم اور 2 اگست کو ہونے والے امتحان کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔جیسے ہی نوح میں تشدد کی خبر پھیلی، قریبی علاقے سوہنا سے بھی تشدد کی آگ بھڑک اٹھی۔ مشتعل ہجوم نے کئی گاڑیوں اور ایک دکان کو آگ لگا دی۔ اس واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری سوہنا بھی بھیج دی گئی۔ نوح اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد میں کمپنیاں تعینات ہیں۔ فی الحال تشدد کا کوئی نیا واقعہ منظر عام پر نہیں آیا ہے۔نوح اور آس پاس کے علاقوں میں تشدد کے واقعات پر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے 31 جولائی کے اپنے ٹوئٹ میں لکھا، ’’آج کا واقعہ افسوسناک ہے۔ میں تمام لوگوں سے ریاست میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔ قصورواروں کو کسی قیمت پر نہیں بخشا جائے گا۔ ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔‘‘تشدد کے واقعات کے پیش نظر پولیس نے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹس کے حوالے سے وارننگ بھی جاری کی ہے۔ گروگرام پولیس نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نوح (میوات) میں پرتشدد واقعہ جس میں 10 سے زیادہ پولس اہلکار زخمی ہوئے اور 2 ہوم گارڈ مارے گئے۔ اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر کوئی ایسی پوسٹ نہ ڈالیں جس سے تشدد اور ہسٹیریا پھیلے، جس سے مذہبی جذبات، باہمی بھائی چارے کو ٹھیس پہنچے اور بدامنی پھیلے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا کہا گیا۔بی جے پی کے زیر اقتدار ہریانہ میں تشدد کے واقعات پر اپوزیشن کھٹر حکومت کو بھی گھیر رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ہریانہ کے نوح اور میوات میں ہوئے تشدد کے لئے کھٹر حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ آپ کے ریاستی صدر سشیل گپتا نے کہا کہ وہ ہریانہ کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امن برقرار رکھیں اور خوشگوار ماحول برقرار رکھیں، افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ کھٹر صاحب امن و امان برقرار رکھنے میں پوری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔ ہریانہ اور مرکز دونوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، لیکن پھر بھی وہ امن و امان کو نہیں سنبھال سکی۔ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے بھی حکومت پر سخت نشانہ لگایا۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، منی پور کے بعد ہریانہ کا تشدد ‘ڈبل انجن’ حکومت کی ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔ حکومت کی شکل میں بی جے پی کا انجن فیل ہو گیا ہے۔ہریانہ میں تشدد کے واقعات کے بعد کئی مقامات پر مذہبی مقامات کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ نوح میں تشدد کے بعد پانی پت پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔ یہاں کے مندروں اور مساجد میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پانی پت پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سماج دشمن عناصر سے سختی سے نمٹے گی۔ اس کے علاوہ ہریانہ کی سرحد سے متصل بھرت پور میں بھی انتظامیہ چوکس ہے۔ ہریانہ کی سرحد سے متصل بھرت پور ضلع کی چار تحصیل نگر، سیکری، پہاڑی، کاما میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ہریانہ کے فرید آباد میں بھی پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کشیدگی کے پیش نظر تمام سکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ حصار میں بھی مختلف مقامات پر پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔