TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -21 AUG
نئی دہلی، 21 اگست:سابق ہندوستانی کرکٹر سنجے منجریکر نے کہا ہے کہ 5 اکتوبر سے شروع ہونے والے آئی سی سی ورلڈ کپ میں آل راونڈر ہاردک پانڈیا کی گیندبازی اہم ہوگی، کیونکہ 2011 کے ایڈیشن میں ہندوستان کی جیت اس لیے ہوئی تھی کہ جب ضرورت پڑی تو سریش رینا اور یوراج سنگھ جیسے بلے بازوں نے شاندار گیندبازی کی۔
منجریکر نے اسٹار اسپورٹس سے خصوصی طور پر ‘فالو دی بلیوز’ پر ہاردک پانڈیا کے ٹیم انڈیا میں آل راونڈر کے کردار کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے کہا کہ ہاردک کیگیند بازی فارم قدرے تشویش کی بات ہے، ورلڈ کپ میں آپ کو بہت زیادہ جسمانی مشقت کرنی پڑے گی کیونکہ آپ کو صرف ایک بلے بازکے طور پر نہیں بلکہ آل راؤنڈر کے طور پر جانا جاتا ہے ، اس لیے کم از کم 6-7 اوور فی اننگ ان سے گیند بازی کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ جب ہندوستان نے 2011 میں ورلڈ کپجیتا تھی تو اس کی وجہ سریش رینا اور یوراج سنگھ جیسے کھلاڑی تھے جنہوں نے بلے بازی کے علاوہ کچھ الگ بولنگ کی تھی، اس لیے ہاردک کی بولنگ بہت اہم ہے‘‘۔
اس سال 11 ون ڈے میچوں میں، ہاردک نے 34.10 کی اوسط سے 10 وکٹیں حاصل کی ہیں، جس میں بہترین گیندبازی کے اعداد و شمار 3/44 ہیں۔ 10 ون ڈے میچوں میں انہوں نے دو نصف سنچریوں کے ساتھ 31.11 کی اوسط اور 97.22 کے اسٹرائیک ریٹ سے 280 رن بنائے ہیں۔
منجریکر نے اس بارے میں بھی اپنی رائے شیئر کی کہ آیا سوریہ کمار یادو کو آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں کھیلنا چاہیے یا نہیں، ’’میرے خیال میں زیادہ تر مدعے اس حقیقت کے بارے میں ہیں کہ سوریہ بہت اچھی فارم میں ہے۔ ہندوستان کو سوریہ کمار یادو پر ضرور غور کرنا ہوگا۔ وہ 50 اوورز کی کرکٹ میں اتنا اثر نہیں ڈال رہے ہیں لیکن جب اننگ میں صرف 15-17 اوور بچے ہیں تو وہ ایک بڑے اسٹیج پر بڑے کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سوریہ کمار یادو کو چاہتے ہیں ہے یا نہیں۔
سوریہ کمار کی 360 ڈگری بلے بازی نے انہیں ٹی۔20 میں بہت پذیرائی اور کامیابی دلائی ہے۔ 53 ٹی۔20 بین الاقوامی میچوں کی 50 اننگ میں، انہوں نے 46.02 کی اوسط اور 172 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے 1841 رنز بنائے ہیں۔ انہوں نے 117 کے بہترین اسکور کے ساتھ تین سنچریاں اور 15 نصف سنچریاں اسکور کیں۔
تاہم 26 ون ڈے کی 24 اننگ میں وہ دو نصف سنچریوں کی مدد سے 24.33 کی اوسط سے صرف 511 رن ہی بنا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوریہ کمار نے ون ڈے کرکٹ میں زبردست شروعات کی ہے۔ اپنی پہلی چھ اننگ میں انہوں نے دو نصف سنچریوں کی مدد سے 65.25 کی اوسط سے 261 رن بنائے۔ ان کی آخری ففٹی فروری 2022 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھی لیکن اس کے بعد سے وہ خراب فارم سے گزر رہے ہیں۔ اپنی آخری نصف سنچری کے بعد سے 18 اننگ میں، انہوں نے 14.70 پر صرف 250 رن بنائے ہیں، جس میں 35 کے بہترین اسکور ہے ۔ اس میں آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تین گولڈن ڈک بھی شامل ہیں۔
منجریکر نے ٹیم انڈیا میں اسپن ڈپارٹمنٹ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا،’’مجھے لگتا ہے کہ اسپن ڈپارٹمنٹ میں، چاہل کو کلدیپ یادو کے ساتھ 50 اوور کے فارمیٹ میں اہم وکٹ حاصل کرنے کے مواقع کی ضرورت ہے کیونکہ جڈیجا آپ کے کنٹرولڈ گیندباز ہوں گے ۔میرے خیال میں ہندوستان میں پچوں اور میدانوں کے سائز کو دیکھتے ہوئے تمام ٹیموں کے لیے اسپن کا شعبہ ہمیشہ ایک جوا جیسارہے گا۔

