TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –02 AUG
بیجنگ،2اگست:چین نے سیلاب سے متاثرہ بیجنگ کے جنوب مغرب میں واقع سیلاب سے متاثرہ شہر ڑوڑو میں 6 لاکھ سے زائد رہائشیوں کی امداد کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ریسکیو اہلکاروں کو روانہ کیا جہاں سمندری طوفان ڈکسوری کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ڑوڑو چین کے صوبے ہیبئی میں واقع ہے جس نے ایک دہائی سے زائد عرصے میں شمالی چین میں ا?نے والے طوفانوں میں سے بدترین طوفان کا سامنا کیا ہے جہاں اب تک کم از کم 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ڑوڑو شہر کی سرحد بیجنگ سے ملتی ہے جہاں ہفتے اور بدھ کے درمیان ہونے والی غیرمعمولی بارشوں سے 140 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور شہر سیلاب میں ڈوب گیا۔ہیبی صوبے میں حکام نے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے جہاں ہفتے سے اب تک اوسطاً 355 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے جو کم از کم جولائی 2012 کے بعد سے سب سے زیادہ بارش ہے۔شدید بارشوں سے ڑوڑو شہر کے ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد رہائشی متاثر ہوئے ہیں جبکہ شہر کی مجموعی آبادی کا چھٹا حصہ خالی کروالیا گیا ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق ہیبئی صوبے میں ہونے والی طوفانی بارشوں سے سب سے زیادہ ڑوڑو شہر متاثر ہوا ہے، جو فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے سے دو گنا زیادہ بڑا ہے، یہاں موجود رہائشی آبادیوں کو سیلاب نے شدید متاثر کیا ہے جبکہ 650 ایکڑ کی زرعی زمین بھی متاثر ہوئی ہے۔مقامی سیکیورٹی بیورو کے مطابق منگل کے روز شہر کو پانی کی کمی اور بجلی کی بندش کا سامنا تھا جبکہ شہر کو فوری طور پر کشتیوں، لائف جیکٹس اور دیگر ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔مقامی آبادی نے بتایا کہ پانی کی سطح میں 4 میٹرز سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 9 ہزار امدادی کارکنوں کو ڑوڑو روانہ کردیا گیا جبکہ پڑوسی صوبے ہینان اور شانزی سے بھی امدادی ٹیمیں روانہ کی جارہی ہیں۔منگل کے روز لی جانے والی سیٹلائٹ تصویر میں شہر کو تین اطراف سے پانی میں گھرا ہوا بھی دیکھا جاسکتا ہے۔گلوبل ٹائمز اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ سے پانی کی ایک بڑی مقدار ڑوڑو کے گرد واقع تین دریاؤں میں بہتی ہے۔ڑوڑو کے رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر طویل ریسکیو اور بحالی کی کوششوں میں تاخیر کے حوالے سے شکایات کیں۔